339۔ اسے اندیشہ ہے گِر کر سنبھلنے کا تبصرہ بھیجیں جولائی 12, 2016جولائی 12, 2016 291 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ501۔502 339۔ اسے اندیشہ ہے گِر کر سنبھلنے کا اسے اندیشہ ہے گِر کر سنبھلنے کا یہ آنسو اب نہیں باہر نکلنے کا اگر خطرہ تھا موسم کے بدلنے کا ارادہ کیوں کیا تھا ساتھ … مزید پڑھیں
340۔ سوچتا ہوں تو تنہا تنہا لگتا ہوں تبصرہ بھیجیں جولائی 12, 2016جولائی 12, 2016 336 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ503۔504 340۔ سوچتا ہوں تو تنہا تنہا لگتا ہوں سوچتا ہوں تو تنہا تنہا لگتا ہوں کھویا کھویا، بکھرا بکھرا لگتا ہوں گر جاؤں تو بے حیثیت آنسو ہوں رک جاؤں تو بے اندازہ لگتا … مزید پڑھیں
341۔ کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ لکّھا ہؤا تبصرہ بھیجیں جولائی 11, 2016جولائی 11, 2016 269 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ505۔506 341۔ کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ لکّھا ہؤا کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ لکّھا ہؤا ہے تو چہرے پر ہے اس کے شکریہ لکّھا ہؤا یہ جو اس کے لب پہ ہے … مزید پڑھیں
342۔ اشک برسے تو اس قدر برسے تبصرہ بھیجیں جولائی 11, 2016جولائی 11, 2016 297 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ507 342۔ اشک برسے تو اس قدر برسے اشک برسے تو اس قدر برسے دُھل گئی ہے زمین اندر سے پُر سکوں ہیں اگرچہ باہر سے ڈَھے رہے ہیں مکان اندر سے ہو کے ناراض … مزید پڑھیں
343۔ اصل کی نقل ہوں، نشانی ہوں تبصرہ بھیجیں جولائی 11, 2016جولائی 11, 2016 361 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ508 343۔ اصل کی نقل ہوں، نشانی ہوں اصل کی نقل ہوں، نشانی ہوں اک روایت ہوں اور پرانی ہوں میرا محبوب قادیانی ہے بخدا مَیں بھی قادیانی ہوں نام لیوا ہوں عہدِ رفتہ کا… مزید پڑھیں
344۔ کون کہتا ہے اسے آدھا نگل تبصرہ بھیجیں جولائی 11, 2016جولائی 11, 2016 296 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ509 344۔ کون کہتا ہے اسے آدھا نگل کون کہتا ہے اسے آدھا نگل زندگی کا زہر ہے، سارا نگل چھوٹنے پائے نہ دامن صبر کا گالیاں کھا، مسکرا، غصّہ نگل عشق ہے تو آزما … مزید پڑھیں
345۔ یہ غزلیں مری، یہ ترانے مرے تبصرہ بھیجیں جولائی 11, 2016جولائی 11, 2016 302 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ510 345۔ یہ غزلیں مری، یہ ترانے مرے یہ غزلیں مری، یہ ترانے مرے ملاقات کے ہیں بہانے مرے کھڑے ہیں جو دشمن سرھانے مرے یہ سب مہرباں ہیں پرانے مرے نہ جانے اسے کیوں … مزید پڑھیں
346۔ خام ہوں، گمنام ہوں، مستور ہوں تبصرہ بھیجیں جولائی 10, 2016جولائی 10, 2016 285 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ511 346۔ خام ہوں، گمنام ہوں، مستور ہوں خام ہوں، گمنام ہوں، مستور ہوں تیرا کمّی ہوں، ترا مزدور ہوں دور ہے تو اور پھر بھی پاس ہے پاس ہوں مَیں اور پھر بھی دور … مزید پڑھیں
347۔ کہیں گرنا، کہیں سنبھلنا تھا تبصرہ بھیجیں جولائی 10, 2016جولائی 10, 2016 310 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ512 347۔ کہیں گرنا، کہیں سنبھلنا تھا کہیں گرنا، کہیں سنبھلنا تھا کام اپنا مدام چلنا تھا یہ رفاقت تو عمر بھر کی تھی عمر بھر ساتھ ساتھ چلنا تھا ان کے کاٹے کا کچھ … مزید پڑھیں
348۔ حسن مجبور ہو گیا ہو گا تبصرہ بھیجیں جولائی 10, 2016جولائی 10, 2016 296 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ513 348۔ حسن مجبور ہو گیا ہو گا حسن مجبور ہو گیا ہو گا یعنی مستور ہو گیا ہو گا عشق بدنام ہو گیا ہو گا اور مشہور ہو گیا ہو گا کٹ گئی … مزید پڑھیں