404۔ سرحدِ امتحاں سے گزرتے ہوئے

اشکوںکے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ590-591

404۔ سرحدِامتحاں سے گزرتے ہوئے

سرحدِ امتحاں سے گزرتے ہوئے

ہم بھی حاضر ہوئے ڈرتے ڈرتے ہوئے

 

ہجر کی رُت میں یہ کس کی یاد آ گئی

آپ کیوں رک گئے بات کرتے ہوئے

 

شرم

407۔ قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے

 

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ596-598

407۔ قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے

 

قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے

لفظ دُھل جائے جس کو تو بولے

 

نرم و نازک، حسین، خوشبودار

ایک ہی پھول چارسُو بولے

 

لِلّٰہِ الْحَمْدْ عہدِ