88۔ کاش اب تو زندگی میں ابتلاء کوئی نہ ہو
ہے
دراز دستِ دعا مرا صفحہ268۔270
دراز دستِ دعا مرا صفحہ268۔270
88۔ کاش اب تو زندگی میں ابتلاء کوئی نہ
ہو
کاش اب تو زندگی میں ابتلاء کوئی نہ
ہو
ہو
آزمائش کا کٹھن اب مرحلہ کوئی نہ ہو
چاہتا ہے دل مرا کہ پُر سکوں
