242۔ پتھر اُٹھائیے ، کوئی دشنام دیجیے
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ360
کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ360
242۔ پتھر اُٹھائیے ، کوئی دشنام دیجیے
پتھر اُٹھائیے ، کوئی دشنام دیجیے
مجرم ہوں جرمِ عشق کا، انعام دیجیے
یہ کیا کہ چھپ کے عشق کا الزام دیجیے
دینی ہے جو سزا بھی
