183۔ وجود اپنا مجھے دے دو

یہ
زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں
صفحہ151۔152

183۔ وجود
اپنا مجھے دے دو

وجود
اپنا مجھے دے دو
تمھارے
ہیں کہو اک دن
کہو
اک دن
کہ
جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمھارا ہے
کہو
اک دن
جسے
تم چاند سا کہتے ہو وہ چہرہ تمھارا ہے
ستارہ
سی جنھیں کہتے ہو وہ آنکھیں تمھاری ہیں
جنھیں
تم شاخ سی کہتے ہو وہ بانہیں تمھاری ہیں
کبوتر
تولتے ہیں پر تو پروازیں تمھاری ہیں
جنھیں
تم پھول سی کہتے ہو وہ باتیں تمھاری ہیں
قیامت
سی جنھیں کہتے ہو رفتاریں تمھاری ہیں
کہو
اک دن
کہو
اک دن
کہ
جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمھارا ہے
اگر
سب کچھ یہ میرا ہے تو سب کچھ بخش دو اک دن
وجود
اپنا مجھے دے دو محبت بخش دو اک دن
میرے
ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ کر روح میری کھینچ لو اک دن
1973ء
عبید اللہ علیم ؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں