174۔ الفت الفت کہتے ہیں پر دل الفت سے خالی ہے

کلام
محمود صفحہ239

174۔ الفت  الفت کہتے ہیں پر دل الفت سے خالی ہے

الفت  الفت کہتے ہیں پر دل الفت سے خالی ہے
ہے
دل میں کچھ اور منہ پر کچھ دنیا کی ریت نرالی ہے
کہتے
ہیں آؤدنیا کو دیکھ ،ہیں اس میں کیسے نظارے
میں
کہتا ہوں بس چپ بھی رہو یہ میری دیکھی بھالی ہے
یاں
عالم انکو کہتے ہیں جو دیں سے کورے ہوتے ہیں
جب
دیکھو بھیڑیا نکلے گا جو بھیڑوں کا رکھوالی ہے
تقویٰ
کا جھنڈا جھکتا ہے پر کفر کی گڈی چڑھتی ہے
اس
دنیا میں اب نیکوں کا کوئی تو اللہ والی ہے
اندھیاری
راتوں میں سجدے کرنا تو پہلی باتیں تھیں
اب
دن اک مجلس عیش کی ہے اور رات جو ہے دیوالی ہے
اب
صوفے کوچیں گرجا میں اک شان سے رکھے رہتے ہیں
مسجد
میں چٹائی ہوتی تھی سو ظالم نے سرکالی ہے
کافر
کے ہاتھ میں بندوقیں مومن کےہاتھ سلاسل میں
کافر
کا ہاتھ خزانوں پر مومن کی پیالی خالی ہے
اخبار الفضل جلد7۔ 3جنوری1953ء۔ لاہور ۔ پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں