359۔ غم ہائے روزگار کی نظروں نے کھا لیاں تبصرہ بھیجیں جولائی 8, 2016جولائی 8, 2016 302 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ527 359۔ غم ہائے روزگار کی نظروں نے کھا لیاں غم ہائے روزگار کی نظروں نے کھا لیاں آنکھوں کی مستیاں، ترے ہونٹوں کی لالیاں وہ گالیاں جو رات عدو نے نکالیاں کیا جانیے کہ … مزید پڑھیں
360۔ جہاں عشق نے برچھیاں ماریاں تبصرہ بھیجیں جولائی 8, 2016جولائی 8, 2016 334 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ528 360۔ جہاں عشق نے برچھیاں ماریاں جہاں عشق نے برچھیاں ماریاں دھری رہ گئیں شوخیاں ساریاں زمانے میں ضربُ المَثَل بن گئیں مری سُستیاں، اس کی ستّاریاں بس اک لمس سے سربسر مٹ گئیں… مزید پڑھیں
361۔ صدمۂ رنگ سے جنگل جاگا تبصرہ بھیجیں جولائی 7, 2016جولائی 7, 2016 335 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ529 361۔ صدمۂ رنگ سے جنگل جاگا صدمۂ رنگ سے جنگل جاگا دل میں پھر درد سا ہونے لاگا کوئی ساتھی ہے نہ کوئی محرم پار پردیس کو اُڑ جا کاگا پھر وہی شامِ غریباں … مزید پڑھیں
362۔ پھر شبِ دیجور دروازہ کھلا تبصرہ بھیجیں جولائی 7, 2016جولائی 7, 2016 306 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ530 362۔ پھر شبِ دیجور دروازہ کھلا پھر شبِ دیجور دروازہ کھلا روشنی کا باب اک تازہ کھلا کون کافر ہے، مسلماں کون ہے ہو گیا خلقت کو اندازہ کھلا آگ اور پانی گلے ملنے … مزید پڑھیں
363۔ اوڑھ لینے کو بدن بھی ہو گا تبصرہ بھیجیں جولائی 7, 2016جولائی 7, 2016 275 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ531 363۔ اوڑھ لینے کو بدن بھی ہو گا اوڑھ لینے کو بدن بھی ہو گا قبر بھی ہو گی، کفن بھی ہو گا ہم درختوں سے گلے مل لیں گے ساتھ وہ رشکِ چمن … مزید پڑھیں
364۔ آنکھ سے ٹپکا، لہو بن کر جلا تبصرہ بھیجیں جولائی 7, 2016جولائی 7, 2016 308 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ532 364۔ آنکھ سے ٹپکا، لہو بن کر جلا آنکھ سے ٹپکا، لہو بن کر جلا اشک آخر اشک تھا، گھر گھر جلا شاہدِ معنٰی کو پا کر روبرو ہم نے دی اظہار کی چادر … مزید پڑھیں
365۔ نعرہ زن بزم میں جب تُو ہو گا تبصرہ بھیجیں جولائی 7, 2016جولائی 7, 2016 303 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ533 365۔ نعرہ زن بزم میں جب تُو ہو گا نعرہ زن بزم میں جب تُو ہو گا کس کو جذبات پہ قابو ہو گا ہم چلے جائیں گے اُٹھ کر تنہا یہ بھی فریاد … مزید پڑھیں
366۔ اپنے سائے سے ڈر رہی ہے رات تبصرہ بھیجیں جولائی 6, 2016جولائی 6, 2016 291 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ534 366۔ اپنے سائے سے ڈر رہی ہے رات اپنے سائے سے ڈر رہی ہے رات جی رہی ہے نہ مر رہی ہے رات صبحِ نو سے ملی ہے پہلی بار جانے اب تک کدھر … مزید پڑھیں
367۔ وہ نہ تنہا مجھ سے کوسوں دور تھا تبصرہ بھیجیں جولائی 6, 2016جولائی 6, 2016 288 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ535۔536 367۔ وہ نہ تنہا مجھ سے کوسوں دور تھا وہ نہ تنہا مجھ سے کوسوں دور تھا مَیں بھی ننگے پاؤں تھا، مجبور تھا مَیں غزل خواں تھا فقط تیرے لیے بات کیا تھی … مزید پڑھیں
368۔ خود سے مل کر ہوئے اداس بہت تبصرہ بھیجیں جولائی 6, 2016جولائی 6, 2016 284 مناظر اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ537 368۔ خود سے مل کر ہوئے اداس بہت خود سے مل کر ہوئے اداس بہت خود سے ملنے کی بھی تھی پیاس بہت اس کی ہر ایک سے لڑائی ہے دلِ ناداں ہے ناشناس … مزید پڑھیں