Skip to content
  • 399۔ تری آنکھوں میں عیّاری بہت ہے
  • 400۔ ایک ماڑا، ایک تگڑا چوک میں
  • 401۔ اس عہد کے آسیب کو کرسی کی پڑی تھی
  • 402۔ جب بھی وہ عہد کا حسیں بولے
  • 403۔ یہ جو صحرا میں گل کِھلے ہیں میاں
Saturday, 7th February, 2026
اردو ادب کا احمدیہ دبستان
  • درثمین
  • کلام محمود
  • کلام طاہر
  • کلام بشیر
  • بخارِدل
  • کلام مضطرؔ
  • دستِ دعا
  • کلام علیم
  • درعدن
  • کلام مختار
Saturday, 7th February, 2026
اردو ادب کا احمدیہ دبستان
  • درثمین
  • کلام محمود
  • کلام طاہر
  • کلام بشیر
  • بخارِدل
  • کلام مضطرؔ
  • دستِ دعا
  • کلام علیم
  • درعدن
  • کلام مختار

کیٹاگری: چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

210۔ پھسلنے کا اگر امکان ہوتا

تبصرہ بھیجیں اگست 7, 2016اگست 7, 2016 291 مناظر
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ310

210۔ پھسلنے کا اگر امکان ہوتا

پھسلنے
کا اگر امکان ہوتا
سنبھلنے
کا بھی کچھ سامان ہوتا
فقیہِ
شہر اگر انسان ہوتا
تو
اہلِ شہر پر احسان ہوتا
صلیبِ
شہر جھک کر بات کرتی
…
مزید پڑھیں

211۔صبح اندیشے، شام اندیشے

تبصرہ بھیجیں اگست 6, 2016اگست 6, 2016 417 مناظر
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ311

211۔صبح اندیشے، شام اندیشے

صبح
اندیشے، شام اندیشے
بے
وطن، بے مقام اندیشے
روزمرّہ
کے عام اندیشے
ہر
قدم گام گام اندیشے
یہ
اگر ہیں تو ہم بھی ہیں، یعنی
زندگی
کا ہے نام
…
مزید پڑھیں

212۔کفر کا الزام میرے نام تھا

تبصرہ بھیجیں اگست 6, 2016اگست 6, 2016 291 مناظر
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ 312

212۔کفر کا الزام میرے نام تھا

کفر
کا الزام میرے نام تھا
کون
کہتا ہے کہ مَیں ناکام تھا
کوئے
جاناں اور جاں کے درمیاں
فاصلہ
تھا بھی تو یک دو گام تھا
…
مزید پڑھیں

213۔یہ خلش سی جو آبلے میں ہے

تبصرہ بھیجیں اگست 6, 2016اگست 6, 2016 246 مناظر
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ 313-314

213۔یہ خلش سی جو آبلے میں ہے

یہ خلش سی جو آبلے میں ہے
کس سزا میں ہے، کس صلے میں ہے
قصرِ نمرود زلزلے میں ہے
بُت شکن کوئی بُت کدے میں
…
مزید پڑھیں

214۔اشک جو آنکھ کے قفس میں ہے

تبصرہ بھیجیں اگست 6, 2016اگست 6, 2016 271 مناظر
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ 315۔316

214۔اشک جو آنکھ کے قفس میں ہے

اشک
جو آنکھ کے قفس میں ہے
ایک
سجدے کی دسترس میں ہے
دلِ
ناداں! یہ عشق کا الزام
تیرے
بس میں نہ میرے بس
…
مزید پڑھیں

215۔گھر سے نکلے تھے بے ارادہ بھی

تبصرہ بھیجیں اگست 6, 2016اگست 6, 2016 264 مناظر
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ 317۔318

215۔گھر سے نکلے تھے بے ارادہ بھی

گھر
سے نکلے تھے بے ارادہ بھی
بے
خبر بھی تھے لوگ سادہ بھی
تم
نے اوڑھا تھا جو لبادہ بھی
وہ
لبادہ تھا رہنِ
…
مزید پڑھیں

216۔ جلنے کا شوق تھا تو وہ جلتا تمام رات

تبصرہ بھیجیں اگست 5, 2016اگست 5, 2016 288 مناظر
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ 319-320

216۔ جلنے کا شوق تھا تو وہ جلتا تمام رات

جلنے
کا شوق تھا تو وہ جلتا تمام رات
پتھر
تھا، موم بن کے پگھلتا تمام رات
منظور
تھا اگر اُسے دھرتی
…
مزید پڑھیں

217۔ جلنے لگا مکاں تو گلی سوچنے لگی

تبصرہ بھیجیں اگست 5, 2016اگست 5, 2016 298 مناظر
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ321۔322

217۔ جلنے لگا مکاں تو گلی سوچنے لگی

جلنے لگا مکاں تو گلی سوچنے لگی
ننگی نکور دھوپ جلی سوچنے لگی
آنکھیں اُگی ہوئی تھیں گلی میں، مگر
گلی
پھر بھی نہ سوچنے سے
…
مزید پڑھیں

218۔ بے سبب اور بے صدا ٹوٹا

تبصرہ بھیجیں اگست 5, 2016اگست 5, 2016 289 مناظر
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ218۔219

218۔ بے سبب اور بے صدا ٹوٹا

بے سبب اور بے صدا ٹوٹا
اشک اندر سے بارہا ٹوٹا
حشر آواز کا ہؤا برپا
قفل جب بھی سکوت کا ٹوٹا
عکس سے عکس کی صداقت
…
مزید پڑھیں

219۔ آپ کے لب پر پیار ہو، دل میں پیار نہ ہو

تبصرہ بھیجیں اگست 5, 2016اگست 5, 2016 326 مناظر
اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ219۔220

219۔ آپ کے لب پر پیار ہو، دل میں پیار نہ ہو

آپ کے لب پر پیار ہو، دل میں پیار نہ
ہو
آپ کا لب سرکار کہیں عیّار نہ ہو
تیرِ نظر کے
…
مزید پڑھیں
  • پچھلہ صفحہ
  • 1
  • 2
  • …
  • 24
  • 25
  • 26
  • …
  • 43
  • 44
  • اگلا صفحہ

کیٹا گریز

  • بخارِدل
  • تبرکات – القرآن ۔ الشعراء 225-228
  • تبرکات ۔ آنحضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ و سلم کے اشعار
  • تعارف چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی
  • تعارف چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی
  • چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی
  • حضرت حافظ سید مختار احمد مختار ؔشاہجہانپوری صاحب ؓ
  • درثمین
  • درعدن
  • عبید اللہ علیم ؔ
  • کلام بشیر
  • کلام شریف
  • کلام طاہر
  • کلام محمود
  • کلام ناصر
  • مشہور و معروف – اردوکا جنازہ
  • مشہور و معروف – خسرو کی پہیلی
  • مشہور ومعروف – بیٹیاں
  • نادرو نایاب – یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
  • ہے دراز دستِ دعا مرا

حالیہ پوسٹیں

  • 399۔ تری آنکھوں میں عیّاری بہت ہے
  • 400۔ ایک ماڑا، ایک تگڑا چوک میں
  • 401۔ اس عہد کے آسیب کو کرسی کی پڑی تھی
  • 402۔ جب بھی وہ عہد کا حسیں بولے
  • 403۔ یہ جو صحرا میں گل کِھلے ہیں میاں
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

2018 © اس ویب سائٹ کے تمام جملہ حقوق محفوظ ہیں