68۔ نہ گراؤ اشک بھی آنکھ سے نہ لبوں سے نکلے کراہ بھی
ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ221۔223
68۔ نہ گراؤ اشک بھی آنکھ سے نہ لبوں سے
نکلے کراہ بھی
نہ گراؤ اشک بھی آنکھ سے نہ لبوں سے
نکلے کراہ بھی
نکلے کراہ بھی
جو زمینِ دل میں دبی رہی ہوئی بارور
وہی
وہی
