179۔ ہے تاروں کی دنیا بہت دور ہم سے

کلام
محمود صفحہ245

179۔ ہے
تاروں کی دنیا بہت دور ہم سے

ہے
تاروں کی دنیا بہت دور ہم سے
ہم
ان سے ہیں اور وہ ہیں مہجور ہم سے
خدا
جانے ان کو ہے آزادی حاصل
کہ
ہیں وہ بھی معذور و مجبور ہم سے
زمانہ
کو حاصل ہو نورِ نبوت
جو
سیکھے قوانین و دستور ہم سے
خدا
جانے دونوں میں کیا رس بھرا ہے
ہم
ان سے ہیں اور وہ ہیں مخمور ہم سے
ہم
ان سے نگاہیں لڑائیں گے پیہم
وہ
باتیں کریں گے سرِ طور ہم سے
ادھر
ہم بضد ہیں ادھر دل بضدہے
ہم
اس سے ہیں اور وہ ہے مجبور ہم سے
رقیبوں
سے بھی چھیڑ جاری رہے گی
تعلق
رہے گا بدستور ہم سے
دل
دوستاں کو نہ توڑیں گے ہرگز
نہ
ٹوٹے گا ہرگز یہ بلّور ہم سے
دھرا
ہم پہ بارِ شریعت تو پھر کیوں
فرشتوں
پہ ظاہر ہو مستور ہم سے
مبارک
ہو یہ ڈارون کو ہی رشتہ
قرابت
نہیں رکھتے لنگور ہم سے
ناصر آباد۔ سندھ
اخبار الفضل جلد 8۔ 21اکتوبر1954ء۔ لاہور ۔ پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں