161۔ حیرت سے ہے خود کو تک رہا کیا

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ245

161۔ حیرت
سے ہے خود کو تک رہا کیا

حیرت سے ہے خود کو تک رہا کیا
اپنا بھی نہیں تجھے پتا کیا
کیا جانیے مجھ کو ہو گیا کیا
کہنا تھا کچھ اور کہہ دیا کیا
اشکوں کے چراغ جل رہے ہیں
گھر گھر ہے یہ آج رتجگا کیا
زندانئ زلف و چشم و رخسار
کوئی بھی نہیں مرے سوا کیا
پتّھر سے سوال کرنے والے!
پتّھر کو ہے تُو پکارتا کیا
قاتل! ُتو رہے سدا سلامت
ہم کیا ہیں، ہمارا خوں بہا کیا
تھا تیرے بغیر کون اپنا
تُو ہی نہ رہا تو پھر رہا کیا
بھُولے سے کیا ہے یاد کس نے
سینے میں یہ درد سا اٹھا کیا
سائے سے جھگڑ رہا ہے ناداں
مضطرؔ کو نہ جانے ہو گیا کیا
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

اپنا تبصرہ بھیجیں