423۔ جڑیں گہری ہیں اور شاخیں گھنی ہیں

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ617

423۔ جڑیں
گہری ہیں اور شاخیں گھنی ہیں

جڑیں
گہری ہیں اور شاخیں گھنی ہیں
یہ
بوڑھے پیڑ قسمت کے دَھنی ہیں
نہ
ڈھے جائیں کہیں ان بارشوں میں
بڑی
مشکل سے دیواریں بنی ہیں
بہت
شفّاف ہیں اندر سے یہ لوگ
کہ
خالی ہاتھ ہیں دل کے غنی ہیں
ابھی
آیا نہیں ہے وقتِ رخصت
ابھی
کچھ روز سڑکیں ناپنی ہیں
عجب
کیا ہے کہ ان میں جان پڑجائے
بڑے
جتنوں سے تصویریں بنی ہیں
کسی
طوفان کی ہیں پیش خیمہ
یہ
سر پر بدلیاں سی جو تنی ہیں
یہ
رنگا رنگ کے ہیں پھول مضطرؔ
سپید
و سُرخ ہیں اور کاسنی ہیں
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے