407۔ قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے

 

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ596-598

407۔ قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے

 

قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے

لفظ دُھل جائے جس کو تو بولے

 

نرم و نازک، حسین، خوشبودار

ایک ہی پھول چارسُو بولے

 

لِلّٰہِ الْحَمْدْ عہدِ الفت میں

پانچ کے پانچ خوبرو بولے

 

قدرتِ ثانیہ کا ہر مظہر

عکس در عکس ہو بہ ہو بولے

 

سلسلہ وار ایک ہی آواز

دشت در دشت کُو بہ کُو بولے

 

اس کراں تا کراں خموشی میں

کون بولے اگر نہ تو بولے

 

کون ہے تو کہاں سے آیا ہے

تیرا اندازِ گفتگو بولے

 

تجھ سے ملنے کے بعد بھی دل میں

تجھ سے ملنے کی آرزو بولے

 

میرے اندر بھی بولتا ہے تو

میرے باہر بھی تو ہی تو بولے

 

بولنا بھول جائے دنیا کو

مسکرا کر اگر نہ تو بولے

 

مسکرا دوں اگر سرِ مقتل

میں نہ بولوں مرا لہو بولے

 

پھول تو پھول ہے بہر صورت

چپ رہے بھی تو رنگ و بو بولے

 

قتلِ ناحق سے قتلِ ناحق تک

سارا رستہ لہو لہو بولے

 

ق

 

یا سنے حوصلے سے میری بات

یا نہ مجھ سے مرا عدو بولے

 

بولنے کا جسے بھی دعویٰ ہو

سامنے آئے روبرو بولے

 

مفت کی بٹ رہی ہے جوتوں میں

جام بولے نہ اب سبو بولے

 

لُٹ گئی آبرو سرِ اخبار

اب نہ عزّت نہ آبرو بولے

 

بولنا سیکھ لے اگر مضطرؔ

بھول کر بھی نہ پھر کبھو بولے

 

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

اپنا تبصرہ بھیجیں