41۔ عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میں

یہ
زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ25۔26

41۔ عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میں

عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میں
وہ بات کرتی تھی اور خواب دیکھتا تھا
میں
وصال کا ہو کہ اُس کے فراق کا موسم
وہ لذّتیں تھیں کہ اندر سے ٹوٹتا تھا
میں
چڑھا ہوا تھاوہ نشّہ کہ کم نہ ہوتا
تھا
ہزار بار اُبھرتا تھا  ڈوبتا تھا میں
بدن کا کھیل تھیں اس کی محبتیں
لیکن
جو بھید جسم کے تھے جاں سے کھولتا تھا
میں
پھر اس طرح کبھی سویا نہ اس طرح جاگا
کہ رُوح نیند میں تھی اور جاگتا تھا
میں
کہاں شکست ہوئی اور کہاں صلہ پایا
کسی کاعشق کسی سے نباہتا تھا میں
میں اہلِ زر کے مقابل میں تھا فقط شاعر
مگر میں جیت گیالفظ ہارتا تھا میں
1976ء
عبید اللہ علیم ؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں