45۔ یہ جیون باندھ لیا تم سے اب اور کہیں ہمیں جانا نہیں

یہ
زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ34

45۔ یہ جیون باندھ لیا تم سے اب اور کہیں
ہمیں جانا نہیں

یہ جیون باندھ لیا تم سے اب اور کہیں
ہمیں جانا نہیں
کسی اور کو حال سنانانہیں کِسی اور
کو دل یہ دِکھانا نہیں
عبید اللہ علیم ؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں