117۔ اے دل وہ شاید خواب ہی تھاکب گھر کوئی میں نے بسایا تھا

یہ
زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں
صفحہ34

117۔ اے دل وہ شاید خواب ہی تھاکب گھر کوئی
میں نے بسایا تھا

اے دل وہ شاید خواب ہی تھاکب گھر کوئی
میں نے بسایا تھا
کوئی رنگ تھا اور نہ خوشبو تھی سناٹا
بولنے آیا تھا
عبید اللہ علیم ؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں