280۔ نظر کے لمس سے دامن نہیں بچائے گا

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ414

280۔  نظر
کے لمس سے دامن نہیں بچائے گا

نظر کے لمس سے دامن نہیں بچائے گا
وہ آگیا ہے تو اب لوٹ کر نہ جائے گا
یہی وفا کا تقاضا ہے، مصلحت ہے یہی
وہ باوفا ہے مجھے خود ہی بھول جائے
گا
زَباں پہ اس کی، حکومت ہے ایک سچّے
کی
جو بات اس نے سنی ہے وہی سنائے گا
تمام کھڑکیاں مشرق کی سمت کھلتی ہیں
کتاب کہتی ہے وہ اس طرف سے آئے گا
مری نحیف نگاہی کا علم ہے اس کو
وہ خوش لباس کبھی سامنے نہ آئے گا
کھلیں گے پھول محبت کے اس کے آنگن میں
وہ دیکھ دیکھ کے خوش ہو گا مسکرائے
گا
نہ جانے کیوں اسے مضطرؔ! یقیں نہیں
آتا
وہ کہہ رہا ہے مجھے پھر بھی آزمائے
گا
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

اپنا تبصرہ بھیجیں