10۔ ہم محو نالۂ جَرَسِ کارواں رہے

بخار
دل صفحہ37۔40

10۔
ہم محو نالۂ جَرَسِ کارواں رہے

جماعتِ احمدیہ
جب تک کہ اس جہاں میں مسیحِ زَماں رہے
زندہ خدا کے ہم کو دکھاتے نِشاں رہے
مُردوں میں جان ڈالتے اِذنِ خدا سے
تھے
اور زندگی بھی ایسی کہ وہ جاوِداں رہے
تِشنہ لَبانِ شربتِ دِیدارِ یار کو
دِکھلاتے راہِ کوچۂ جانِ جہاں رہے
بُلبُل کو رُوئے گُل سے شناسا کیا کِیے
جب تک کہ باغِ دہر میں وہ باغباں رہے
اِخلاص و صِدق و عِشق کے اُن کے زمانہ
میں
مکتب بنے، عُلوم کُھلے، اِمتحاں رہے
اہلِ وفا کی ایسی جماعت بنا گئے
حق پر فدا رہیں گے وہ’ جب تک کہ جاں
رہے
خواص
اے کامیابِ عشق! سنو تو سہی ذرا
ہم تُم بھی ساتھ تھے کبھی اے مہرباں
رہے
تُم نے تو اُڑ کے گوہرِ مقصود پا لیا
ہم سُست گام اور وُہی نِیم جاں رہے
پابَستہ غفلتوں نے کیا ہم کو اِس قَدَر
عمریں گزر گئیں کہ جہاں کے تہاں رہے
بے دیدِ روئے یار مزا کیا ہے گر کوئی
مکّے رہے، مدینے رہے، قادیاں رہے
واحسرتا! کہ کس سے کہیں اپنا حالِ زار
کس کو پڑی کہ سُنتا مِری داستاں رہے
مَل مَل کے ہاتھ اپنے یہ کہتا ہوں بار
بار
منزل کہاں تھی اور پڑے ہم کہاں رہے
یارانِ تیز گام نے محمل کو
جا لیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
مجاہدین
صد آفرین تُم پہ گروہِ مُجاہدیں!
پیچھے سے آئے ۔ پہنچے کہیں سے مگر کہیں
وہ نُور قادیان میں نازِل ہوا تھا جو
روشن کیا ہے اُس سے ہر اک گوشۂ زمیں
پہنچا ہے کوئی لندن و امریکہ کوئی مصر
اور ماریشسں میں جا کے ہُوا کوئی جاگُزیں
مشعل کو لے کے نُورِ ہِدایت کی ہند
میں
پھرتی ہے شہر شہر میں فوجِ مُبلَّغِیں
تیار ہو رہے ہیں ابھی اور عسکری
چھوڑیں گے یہ جوان کسی ملک کو نہیں
ہے اک طرف اگرچہ مسرت بھی بے حِساب
ازبس کہ کامیاب ہیں یہ فاتِحانِ دِیں
پر دوسری طرف ہے یہ حَسرت بھی ساتھ
ساتھ
کہتا ہوں آہ بھر کے دِل زار کے تئیں
یارانِ تیزگام نے محمل کو جالیا
ہم محوِ نالہ جرسِ کارواں رہے
عوام
اے عامئ جماعتِ احمدؑ زہے نصیب
خاصانِ حق کی ذیل میں تیرا شُمار ہے
مُفلس ہے یا امیر تجھے عُذر کچھ نہیں
کُھلتی اگر یہ جیب تِری بار بار ہے
تو سلسلہ کی ریڑھ کی ہڈی ہے یاد رکھ
پڑتا ہے آکے تجھ پہ ہی آخر جو بار ہے
دنیا اگرچہ تجھ کو سمجھتی رہے حقیر
پر آج تیرے پیسوں پہ دِیں کا مَدار
ہے
چندے سے تیرے مدرسے اور مسجدیں بنیں
اور تیری ہِمّتوں کا نتیجہ مَنار ہے
جتنی ہیں شاخہائے نظارات و انجمن
اور جتنا سلسلہ کا یہ سب کاروبار ہے
فَضلِ خدا سے تیری کمائی کے ہیں ثَمَر
یہ خاص تجھ پہ چَشمِ عِنایاتِ یار ہے
اولاد و مال و عزّت و اِملاک دے دیے
پھر بھی سمجھ رہے ہو کہ باقی اُدہار
ہے
پر حَیف ہم سے کوئی بھی خدمت نہ ہوسکی
اب صرف چَشم پوشی پہ اُس کی مَدار ہے
بہتیرا چاہتا ہوں کہ میں چُپ رہوں مگر
آتا زباں پہ شعر یہی بار بار ہے
یارانِ تیزگام نے محمل کو جا
لیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
مرحومین
اے ساکِنانِ مقبرہ تُم پر ہو مرحبا
مر کر بھی تُم ہوئے نہ درِ یار سے جدا
دے دے کے نقد جان خریدا یہ قُربِ خاص
سودا ۔ قَسم خدا کی، یہ سستا بہت کیا
جنّت ملے گی ایک تو اللہ کے یہاں
اور دوسری بہشت یہ پہلو ہے یار کا
یاں کچھ خبر نہیں کہ جگہ بھی ہو یہ
نصیب
یا گر ملے تو حد سے زیادہ ہو فاصلہ
خوش قسمتی پہ آپ کی کرتے ہیں رَشک ہم
کہتے ہیں دِل ہی دِل میں یہ آنسو بہا
بہا
یارانِ تیزگام نے محمل کو جا
لیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
دعا
اے آنکہ میرے واقِفِ اَسرار ہو تُم
ہی
دلبر تُم ہی نِگار تُم ہی یار ہو تُم
ہی
کوئی نہیں جو رَنج و اَلَم سے کرے رِہا
یاں دِل شِکَن بہت ہیں پہ دلدار ہو
تُم ہی
دروازہ اور کوئی بھی آتا نہیں نظر
جاؤں میں کس طرف کو’ جو بیزار ہو تُم
ہی
تُم سا کسی میں حُسنِ گُلُو سوز ہے
کہاں
عالَم کی ساری گرمئی بازار ہو تُم ہی
لینے کا اس مَتاع کے کس کو ہے حوصلہ
لے دے کے میرے دِل کے خریدار ہو تُم
ہی
اعمال ہیں نہ مال ۔ نہ کوئی شفیع ہے
اب بات تب بنے جو مددگار ہو تُم ہی
تُم سے نہ گر کہوں تو کہوں کس سے جا
کے اور
اچھا ہوں یا بُرا ۔ مِری سرکار ہو تُم
ہی
اب لاج میری آپ کے ہاتھوں میں ہے فقط
سَتّار ہو تُم ہی مِرے، غَفّار ہو تُم
ہی
درماندہ رہ گیا ہوں غَضَب تو یہی ہوا
کیجے مدد! کہ چارۂ آزار ہو تُم ہی
یارانِ تیزگام نے محمل کو جا
لیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے”
الفضل 4نومبر 1920ء

10۔ ہم محو نالۂ جَرَسِ کارواں رہے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں