11۔ بُخارِدِل

بخار
دل صفحہ41۔50

11۔
بُخارِدِل

یہ نظم شعر و شاعری کے رنگ میں نہیں
لکھی گئی بلکہ واقعی بخارِدِل ہے۔ جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے۔ اس نظم کے لکھنے
کا مقصد یہ بھی ہے کہ احباب کو اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے اور پھر اس تعلق کو قائم
رکھنے کی توجہ پیدا ہو۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اس نظم میں استعارہ کے طور پر جو بعض الفاظ
آئے ہیں ان کو استعارہ ہی سمجھا جائے۔ مؤلف کا ہر گز یہ عقیدہ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ
کی ذات والا صفات کو نعوذ باللہ محدود یا مخلوق کی طرح مجسم خیال کرتا ہے بلکہ بعض
الفاظ محض اِستعارہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں تاکہ ایک قسم کا مفہوم بیان کرنے والے
کا ادا ہو جائے یا بعض الفاظ جوشِ مَحبت میں استعمال کئے جاتے ہیں دوسرے مقام پر وہ
جائز نہیں ہوتے۔ پس موقع اور محل کے لحاظ سے معانی لینے کا خیال رکھنا چاہئے۔
حصہ اوّل ۔ وصل
یادِ ایّام کہ تُم جلوہ دکھا دیتے تھے
پردۂ زُلفِ دوتا رُخ سے ہٹا دیتے تھے
آپ آجاتے تھے یا ہم کو بُلا لیتے تھے
یا لبِ بام ہی دیدار کرا دیتے تھے
دن بہت گزرے نہیں جب کہ تھا آنا جانا
حاضری آپ کی ہم صبح و مسا دیتے تھے
رُوٹھ جاتے جو کبھی جان کے ہم تُم سے
ذرا
گُد گُدی کر کے معاً آپ ہنسا دیتے تھے
نکتہ گیری تھی گہے نکتہ نوازی گا ہے
دونوں اَوصاف عجب مل کے مزا دیتے تھے
غفلتوں اور گناہوں کی عمارت ہر روز
ہم بناتے تھے مگر آپ گرا دیتے تھے
ہاتھ خالی نہ پھرے در سے کبھی آپ کے
ہم
رَبَّنَا رَبَّنَا کہہ کر جو صدا دیتے
تھے
یہ تو عادت تھی قدیم آپ کی اے ابرِ
کرم
!
مانگتے جتنا تھے ہم’ اس سے سِوا دیتے
تھے
گر بھڑک اُٹھتی کبھی آتِشِ عِصیاں اپنی
آبِ رحمت سے لگی آگ بُجھا دیتے تھے
رہنمائی کو مِری فوجِ ملائک آتی
نفس و شیطان اگر راہ بُھلا دیتے تھے
قطر ۂ اشک کے بدلے مئے جامِ اُلفت
واہ کیا کہنے کہ کیا لیتے تھے’ کیا
دیتے تھے
مکتبِ عشق میں جب درسِ وفا دیتے تُم
وعدۂ ”قول بلیٰ” یاد کرا دیتے تھے
دیکھ کر ترچھی نگاہوں سے مِری حالتِ
زار
حوصلہ ہم سے غریبوں کا بڑھا دیتے تھے
آتِشِ شوق کے بھڑکانے کو گاہے گاہے
پردہئ غیب میں ذات اپنی چُھپا دیتے
تھے
قَبض اور بَسط چلے جاتے تھے دونو پیہم
ایک ہی حال میں فُرصت نہ ذرا دیتے تھے
دِل کے جُھلسانے کو کافی تھی فقط خاموشی
سب سے بڑھ کر یہی طالِب کو سزا دیتے
تھے
خود پھنساتے تھے بلا میں کہ تماشا دیکھیں
خود ہی پھر بِگڑی ہوئی بات بنا دیتے
تھے
تلخی و آہ و بُکا، سوزِشِ دِل، دردِ
نہاں
خوب بیمارِ مَحبت کو دَوا دیتے تھے
سورج اور چاند سِتاروں کی خصوصیت کیا
تُم تو ذرّے میں چمک اپنی دکھا دیتے
تھے
غیر ممکن ہے کہ تُم بھی ہو ۔ اَنانِیَّت
بھی
اک ‘انا1؎’ سے ہی یہ سب قصہ چکا دیتے
تھے
اُن دنوں سوز کا عالَم تھا یہ اپنا
کہ جِدھر
آہ کرتے تھے۔ اُدھر آگے لگا دیتے تھے
نالۂ نیم شبی اتنا مؤثر تھا مِرا
آپ بھی سُن کے کبھی سر کو ہِلا دیتے
تھے
دوست تو دوست رقیبوں کو رُلاتے تھے
ہم
اک قِیامت تِرے کوچہ میں مچا دیتے تھے
لُطف تھا بھوک کا صد نعمتِ رِضواں سے
فُزوں
ما حَضَر اپنا مساکیں کو اُٹھا دیتے
تھے
جب سے یہ سمجھے کہ مخلوق ہے کُل تیری عَیال
خدمتِ خَلق میں سب وقت لگا دیتے تھے
محبت
کعبۂ دِل کو سجاتے تھے تَصَوُّرسے تِرے
اور مَحبت کا دِیا اُس میں جَلا دیتے
تھے
مَاسِوی اللہ” کے خاشاک سے
پھر کر کے صفا
قلبِ صافی کو تِرا عرش بنا دیتے تھے
صدقے کر دیتے تھے یہ جانِ حزیں قدموں
پر
ہر رَگ و ریشہ کو سجدے میں گرا دیتے
تھے
پھر خبر کچھ نہیں جاتے تھے کہاں عقل
و شُعور
آپ آتے تھے کہ سب ہوش بُھلا دیتے تھے
اک تجلّی سے مِرے ہوش اُڑا دیتے تھے
رُخ دکھاتے تھے تو دیوانہ بنا دیتے
تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سمجھ میں نہ کبھی آپ کا آتا تھا
کلام
راستہ عُقدہ کُشائی کا سُجھا دیتے تھے
گہ بڑھا دیتے تھے دلداری سے اُمید
ِ وصال
ہجر و فُرقَت سے گہے مجھ کو ڈرا دیتے
تھے
سخت دُبدے میں مری جان کو رکھتے تھے
مُدام
اب میں سمجھا سَبَقِ خوف و رَجا دیتے
تھے
فاش کر دے نہ کہیں رازِ اَمانت یہ جَہول
مُہرِ خاموشی مِرے لب پہ لگا دیتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مزا آپ کو آتا تھا عبادت سے مِری؟
کیوں مجھے پچھلے پہر آپ جگا دیتے تھے؟
کیوں مِرے منہ سے سنا کرتے تھے اپنی
تعریف؟
کیوں مرے دِل کو لگن اپنی لگادیتے تھے؟
لُطف کیا تھا کہ پھنساتے تھے مَصائب
میں اُدھر
اور اِدھر رَغبَتِ تسلیم و رضا دیتے
تھے
عرفان
نورِ عِرفاں سے مِرا سینہ مُنوّر کر
کے
پتّے پتّے میں مجھے اپنا پتا دیتے تھے
مُنعکِس ہوتے
تھے آئینۂ عالَم میں تُمہی
بُوئے گُل میں بھی مہک اپنی سُنگھا
دیتے تھے
سالِکِ راہِ مَحبت کی تسلّی کے لئے
آپ ہر ساز میں آواز سنا دیتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے تاکہ غبارِ رَہِ جاناں بن جائیں
خاک میں اپنے تئیں ہم بھی مِلا دیتے
تھے
آہ و زاری میں ہماری یہ کَشِش تھی پُر
زور
آپ خود پینگ مَحبت کے بڑھا دیتے تھے
چُھپ کہاں سکتا تھا چہرے سے تِرے عِشق
کا نُور
لاکھ ہم اس کو رَقیبوں سے چُھپا دیتے
تھے
یونہی بڑھتے گئے میدانِ مَحبت میں قدم
ہم چلے ایک’ تو دَس آپ بڑھا دیتے تھے
پھر ہوا وہ جو حریفوں سے سنا تھا ہم
نے
جس کی پہلے سے خبر اہلِ صَفا دیتے تھے
بند وہ روزنِ دیوار ہوا جس میں سے
رُخ دکھا دیتے تھے آواز سنا دیتے تھے
بے رُخی یار نے کی ۔ روتے ہو کیا قسمت
کو
چُھٹ گئے ہم سے جو قسمت کو بنا دیتے
تھے
تھا قُصور اپنا ہی سب ورنہ وہ جانِ
جاناں
طالِبوں کو نہ کبھی اپنے دَغا دیتے
تھے
اب تو دیوارِ حرم تک ہے پھٹکنا مشکل
ایک وہ دن تھے مُکَبِّر پہ نِدا دیتے
تھے
حیف در چشمِ زدن صحبت یار آخر
شُد
روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شُد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حصہ دوم ۔ ہجر
قلبِ تاریک کہاں! لُطفِ عبادات کہاں!
حسرتِ وصل کہاں! شوقِ ملاقات کہاں!
جب سے عِصیان کے پھندے میں پھنسے اپنے
قدم
یار کی ہم سے رہی پھر وہ مُدارات کہاں!
بیقراری نے مجھے کر دیا اتنا مدہوش
دن کِدھر کٹتا ہے معلوم نہیں رات کہاں
کس طرح حُسنِ مَجازی سے بُجھاؤں یہ
آگ
قطرہ شبنم کا کہاں’ زور کی برسات کہاں
درگہِ حضرتِ باری میں رَسائی نہ رہی
عرضِ حالات کہاں’ اور وہ مُناجات کہاں
مَوردِ قہر ہوئے آنکھ میں اُس یار کی
ہم
اب ہمیں غیروں پہ کچھ فخرو مُباہات
کہاں
کھو دیا اپنے ہی ہاتھوں سے جو نُورِ
باطِن
ایسے کافِر پہ رہے چَشمِ عِنایات کہاں
کیا گئے ہم سے ۔ کہ لیتے گئے سب فہم
و ذَکا
اب وہ حالات کہاں اور وہ خیالات کہاں
طائرِ وہم بھی تھکتا ہے، یہ وہ دُوری
ہے
ہم کہاں! یار کہاں! رسمِ مُلاقات کہاں؟
اب تو دن رات بچھی رہتی ہے صف ماتم
کی
دن کہاں عید کے اور شب’ شبِ بارات کہاں
مجھ سے کہتے ہیں یہ دربان کہ ”جاتے
ہو کدھر
راندۂ در ہو’ شرف یابِ مُلاقات کہاں
اُن کی آنکھوں سے گرے’ خَلق نے آنکھیں
پھیریں
اب کسی سے ہمیں اُمّیدِ مُراعات کہاں
دوست ہی کہتے ہیں ”بلعم ہے نکالو اس
کو
جا کے اب دِل کے نکالوں میں بُخارات
کہاں
روزِ روشن میں نکالا جو گیا ہو ۔ اُس
کو
پھر شبِ تار کی وہ خفیہ ملاقات کہاں
اُن کے جاتے ہی نہ معلوم کہ مجھ میں
سے گئے
حُسنِ اَخلاق کہاں ؟ خوبئ عادات کہاں؟؟
رہ گیا قِشر فَقط’ مَغز ہوا سب برباد
اپنے اَعمال میں اِخلاص کی وہ بات کہاں
جب کہ خالِق سے ہی مَفرور ہوا بندہ’
تو پھر
خدمتِ خَلق کہاں’ صدقہ و خیرات کہاں
سب تَصَنُّع کا یہ رونا ہے غزل میں اب تو
نالۂِ عشق کہاں اور یہ خُرافات کہاں
وہ خَلِش دِل کی کہاں؟ سوزِ نہانی وہ
کدھر
وہ نمک پاشئِ لب ہائے جراحات کہاں؟
ہے یہ بے فائدہ سب آہ و فغاں ۔ واویلا
سنتے ہیں عالَمِ بالا میں مِری بات
کہاں
اتنا ﷲِ بتا دو کہ ملیں گے مجھ کو
اب وہ عرفان کہاں؟ لذّت طاعات کہاں
طالِبِ کَشف سے کہہ دو کہ بنے طالِبِ
یار
وصلِ دلدار کہاں ۔ کشف و اِشارات کہاں
جس سے مخمور رہا کرتے تھے دن رات کبھی
ڈھونڈوں اُس مَے کو’ بتا پیرِ خرابات!
کہاں؟
دستِ بیعت تو دیا تھا کہ وہ کھینچیں
اُوپر
چُھٹ گیا حَیف’ لبِ بام’ مرا ہات کہاں
اب وہ اعمال کہاں اور وہ نِیّات کہاں
دستِ نُصرت وہ کسی کا تہِ آفات کہاں
ناخَلَف وہ ہوں کہ اَسلاف کو بد نام
کیا
ورنہ ذِلَّت یہ کہاں زُمرۂِ سادات کہاں
ق
بارگاہِ اَحَدِیَّت کو پُکاروں کیونکر
ایک درویش کہاں! قاضئ حاجات کہاں!
اُن کی خدمت میں یہ کہنا ہے جو مل جائیں
کبھی
وقت پھر ایسا ملے گا مجھے ہیہات کہاں
اپنے ہاں سے جو نِکالا ہے تو دو یہ
تو بتا
جاؤں اس در سے بھلا قبلۂ حاجات کہاں
مجھ کو دعویٰ ہے کریمی پہ تمہاری’ ورنہ
ذرۂ خاک کہاں اور تِری ذات کہاں!
دوستاں حالِ دِل زار نگُفتَن تاکےَ
سوختم سوختم ۔ ایں سوز نہفتن تاکےَ
حصہ سوم ۔ مناجات و دُعا
اب تمنا ہے یہی دِل میں بُلا لے کوئی
آرزو ہے کہ گلے اپنے لگا لے کوئی
اب نہ ہے یار نہ دلدار، نہ غمخوار کوئی
اتنی حسرت ہے کہ پھر پاس بٹھالے کوئی
ہے کوئی صاحبِ دِل میری شَفَاعَت جو
کرے
میں جگر سوختہ ہوں ۔ میری دعا لے کوئی
در پہ آیا ہے یہ توبہ کے لئے ایک فقیر
دو گھڑی بیٹھ کے سُن لے مِرے نالے کوئی
ہوتی ہے کشتئ ایماں کوئی دم میں غرقاب
وَرطۂ بحرِ ضَلالت سے بچا لے کوئی
ہے نہ طاقت نہ سَکَت اور نہ ہمّت باقی
اب مُناسِب ہے یہی مجھ کو سنبھالے کوئی
دَشتِ فُرقت میں بہت آبلہ پائی کر لی
اب بھی شک ہو تو مِرے دیکھ لے چھالے
کوئی
کھینچ کر مجھ کو لیے جاتا ہے نَفسِ
ظالِم
قیدِ زَنجیرِ مَعاصی سے چُھڑا لے کوئی
شرم سے گرچہ نظر اُٹھ نہیں سکتی میری
پر تمنّا ہے کہ آنکھوں میں بٹھالے کوئی
رُتبہ اپنا ہو ملائک سے کہیں بڑھ کے
سِوا
دامنِ عَفو کے نیچے جو چُھپا لے کوئی
ہاتھ میں دِل کو لئے پھرتا ہوں اپنے
زخمی
کاش کہ پھانس مِرے دِل کی نکالے کوئی
صدقے ہو جاؤں اگر ہاتھ پکڑ کر میرے
اپنے چَرنوں میں مرا سِیس نِوا لے کوئی
مِہر سے اُس کی، سیہ بختی ہو اپنی کافور
زُلف کو گر رُخِ زیبا سے ہٹا لے کوئی
میں بھی بیٹھا ہوں کسی در پہ با اُمید
قبول
پھر غلامِ درِ جانانہ بنا لے کوئی
جس طرح اپنی حُضوری سے کیا تھا مہجور
رحم فرما کے اسی طرح بُلا لے کوئی
نبض کیوں دیکھ کے گھبرا گیا نادان طبیب
دم نہیں نکلے گا جب تک کہ نہ آ لے کوئی
جتنا چاہے مجھے مٹی میں مِلا دے کوئی
پھر نہ کوچے سے مگر اپنے نکالے کوئی
جو مخاطِب ہیں مِرے خود ہیں وہ عَلّامِ
غُیوب
اب مُناسب نہیں کچھ منہ سے نکالے کوئی
ہے دُعا اپنی یہ درگاہِ خداوندی سے
موت تب آئے کہ جب چہرہ دِکھا لے کوئی
ایں دعا از من و از جملہ جہاں آ میں
باد
یار باز آید و لُطفش بہ ہماں آئیں باد
حصہ چہارم ۔ ملاقات
اے خوشا وقت کہ پھر وصل کا ساماں ہے
وہی
دستِ عاشق ہے وہی یار کا داماں ہے وہی
دِل کے آئینہ میں عکسِ رُخِ جاناں ہے
وہی
مَر دُمِ چَشم میں نَقشِ شہِ خُوباں
ہے وہی
ہو گئی دُور غمِ ہجر کی کُلفت ساری
شکر صد شکر کہ اللہ کا اِحساں ہے وہی
مُژدہ اے جان و دِلم! پھر وہی ساقی
آیا
مَے وہی’ بزم وہی’ ساغرِ گرداں ہے وہی
مِل گئے طالِب و مطلوب گلے آپس میں
رَبِّ مُحسِن ہے وہی بندۂ اِحساں ہے وہی
پھر وہی جنّتِ فردوس ہے حاصِل مجھ کو
نَخلِ ایماں ہے وہی چَشمۂِ عِرفاں ہے
وہی
ذرّے ذرّے میں مِرے رچ گیا دلدارِ اَزَل
ذکر میں لب پہ وہی’ فِکر میں پِنہاں
ہے وہی
آتِشِ عشق و مَحبت کا وہی زور ہے پھر
قلب بِریاں ہے وہی دیدۂ گِریاں ہے وہی
دیکھئے کیا ہو کہ اب ایک ہوئے ہیں دونوں
چاکِ داماں ہے وہی’ چاکِ گریباں ہے
وہی
پھر اُسی تیغِ نَظَر سے یہ جگر ہے گھائِل
طائرِ دِل کے لئے ناوِکِ مِژگاں ہے
وہی
روئے تاباں کو مِرے یار کے دیکھے تو
کوئی
مسکراہٹ ہے وہی’ چہرۂِ خَنداں ہے وہی
وسیلۂِ درگاہ الٰہی
دوستو! مُژدہ کہ اک خِضرِ طریقت کے
طُفیل
پھر مِرے دِل میں رواں چَشمہ حیواں
ہے وہی
اس وسیلہ کے سوا وصل کی صورت ہی نہ
تھی
قاصدِ بارگہِ حضرتِ ذیشاں ہے وہی
میرا کیا منہ ہے کہ تعریف کروں اُس
کی بیاں
مہدئؑ وقت ہے وہ، عیسٰؑئ دَوراں ہے
وہی
اُس کے ملنے سے ہمیں شاہدِ گُم گشتہ
ملا
آستانے کا شہِ حُسن کے دَرباں ہے وہی
حمد ذات باری تعالیٰ
میرا محبوب ہے وہ جانِ جہانِ عُشّاق
اُس سے جو دُور رہا قالِب بے جاں ہے
وہی
عالَمِ کون و مکاں نُور سے اُس کے رَوشن
نغمۂ ساز وہی، بوئے گُلِستاں ہے وہی
ذرّے ذرّے میں کشِش عشق کی جس نے رکھی
مالکِ جسم وہی’ رُوح کا سُلطاں ہے وہی
رنگ سے اُس کے ہے نیرنگیءِ عالَم کا
ظُہور
گرمی و رَونَقِ بازارِ حَسِیناں ہے
وہی
دِل جو انساں کو دیا، دردِ محبت دِل
کو
قبلۂِ دِل ہے وہی درد کا درماں ہے وہی
جس نے آواز سُنی ۔ ہو گیا اُس کا شَیدا
دیکھ لے جلوہ تو سَو جان سے قُرباں
ہے وہی
خود تو جو کچھ ہے سو ہے، نام بھی اُس
کے پیارے
حیّ و قیوم و صمد ۔ ہادی و رحماں ہے
وہی
عشق میں جس کے رَقابت نہیں وہ یار ہے
یہ
جس پہ بِن دیکھے مَریں لوگ یہ جاناں
ہے وہی
لاکھ خوشیاں ہوں مگر خاک ہیں بے وصلِ
نِگار
قُرب حاصِل ہے جسے خُرَّم و شاداں ہے
وہی
حُبِّ دنیا بھی نہ ہو خواہشِ عُقبیٰ
بھی نہ ہو
جُز خدا کچھ بھی نہ ہو طالِبِ جاناں
ہے وہی
ٹھوکر سے بچو
نفسِ امّارہ جسے کہتے ہیں اَرباب نَظَر
راہِ اُلفت میں بس اِک خارِمُغیلاں
ہے وہی
جس سے یہ رَہزن و سَفّاک بھی مَغلُوب
نہ ہو
یار کی راہ سے گُم گشتہ و حیراں1؎ ہے
وہی
دعا
اب تو دِل میں ہے فَقَط ایک تمنّا باقی
آرزو صرف وہی خواہش و اَرماں ہے وہی
درگہِ قُدس سے قائم رہے رِشتہ اپنا
لیکن اس کا بھی’ اگر ہے ۔ تو نگہباں
ہے وہی
تِشنۂ جامِ مَحبت کی دُعا ہے اس سے
ساقئ میکدۂِ محفلِ مَستاں ہے وہی
ق
آپ دیتے نہ تھکیں اور میں پیتے نہ تھکوں
میرے شایاں ہے یہی آپ کے شایاں ہے وہی
ہاتھ پکڑا ہے تو اب چھوڑ نہ دینا لِلّٰہْ
مدتوں دُور رہا جو یہ پشیماں ہے وہی
سچ تو یہ ہے کہ سبھی میری خطا تھی ورنہ
اپنے بندوں پہ کرم آپ کا ہر آں ہے وہی
ہم تو کمزور ہیں پر آپ میں سب طاقت
ہے
جو بھی مشکل ہے ہمیں آپ کو آساں ہے
وہی
لِلّٰہِ الْحَمْد میانِ
من و اُو صلح فتاد
حوریاں رقص کناں ساغَرِ شکرانہ زَدند
1؎ کالذی استھوتہُ الشیٰطین فی
الارض حیران
مطبوعہ رسالہ رفیق حیات جلد 4 نمبر 3 بابت مارچ1921ء صفحہ 5 تا 10

اپنا تبصرہ بھیجیں