302۔ یوں نہ مجبور کو مسند پہ بٹھایا جائے

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ449۔450

302۔ یوں
نہ مجبور کو مسند پہ بٹھایا جائے

یوں
نہ مجبور کو مسند پہ بٹھایا جائے
فیصلہ
تم نے جو لکّھا ہے سُنایا جائے
قتلِ
ناحق کا اگر حکم سنایا جائے
کچھ
تو

306۔ اپنے اندازے میں اَوروں کا نہ اندازہ ملا

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ
455

306۔ اپنے
اندازے میں اَوروں کا نہ اندازہ ملا

اپنے
اندازے میں اَوروں کا نہ اندازہ ملا
عَین
اپنی ذات کے پرزوں کا شیرازہ ملا
زندگی
کی عمر بھر دلچسپیاں قائم رہیں
اس

309۔ خواب چہرے پر سجائے،دل میں تعبیریں لیے

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ
458

309۔ خواب
چہرے پر سجائے،دل میں تعبیریں لیے

خواب
چہرے پر سجائے،دل میں تعبیریں لیے
آئنہ
خانے میں کون آیا ہے تصویریں لیے
ریت
کے سینے پہ ہے لکّھا ہؤا کس کا کلام