401۔ اس عہد کے آسیب کو کرسی کی پڑی تھی

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ
585-586

401۔ اس عہد کے آسیب کو کرسی کی پڑی تھی

اس عہد کے آسیب کو کرسی کی پڑی تھی
مخلوقِ خدا تھی کہ پریشان کھڑی تھی
اس لمحہء بیدار سے جب آنکھ لڑی تھی
دن حشر کا تھا اور قیامت کی گھڑی تھی
ہم تھے تو فقط تیری طرف محوِ سفر تھے
رستہ بھی خطرناک تھا منزل بھی کڑی تھی
ہم عہدِ اذیّت میں اکیلے تو نہیں تھے
اُس عہد کی آواز بھی ہمراہ کھڑی تھی
اے دیدۂ گریاں! یہ مرے اشک نہیں تھے
آیات کی برسات تھی ساون کی جھڑی تھی
امسال تو قاتل بھی کسی کام نہ آیا
ہرچند کہ اس شوخ سے اُمّید بڑی تھی
کیاجانیے کیوں پڑھ نہ سکی فردِ عمل کو
یہ قوم٭ سنا ہے کہ بہت لکھّی پڑھی تھی
یہ عشق کے اعلان کے سو سال نہیں تھے
لذّتسے لرزتے ہوئے لمحوں کی لڑی تھی
ہم لوگ بڑے چین سے بیٹھے تھے بھنور میں
تاریخ بھی حیران کنارے پہ کھڑی تھی
مضطرؔپ سِ آواز کوئی تھا جو کھڑا تھا
واللہ ہمیں اس سے محبت بھی بڑی تھی
٭علماءِ سوء
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے