28۔ اے روح قطرۂ قطرۂ پگھل آپ کے لئے

یہ
زندگی ہے ہماری۔  نگارِصبح کی اُمید میں صفحہ67۔68

28۔ اے روح قطرۂ قطرۂ پگھل آپ کے لئے

اے رُوح قطرہ قطرہ پگھل آپ کےلئے
اے خامہ سیلِ  خواب میں چل آپ کے لئے
ہر شعر ما ورائے سخن ہو کچھ اس طرح
اے دل تو لفظ لفظ میں ڈھل آپ کے لئے
اپنے معاملے میں حساب اس کا اور ہے
سو بار اے زبان سنبھل آپ کے لئے
مرتا ہوں آرزو میں کہ اے کاش لکھ سکوں
جیسے ہیں آپ ایسی غزل آپ کے لئے
مانگے ہے جیسے سجدوں میں دل آج آپ
کو
تڑپے سوا یہ آج سےکل آپ کے لئے
اک نشۂ وجود میں پڑھتے رہیں درود
نینوں کے دیپ دل کے کنول آپ کے لئے
دونوں جہاں وہیں ہیں جہاں چھاؤں آپ
کی
اے دل مچل تو صرف مچل آپ کے لئے
اس ظرفِ کائنات پہ کتنے کھلیں گے آپ
جب اس کا ایک دور ہوپل آپ کے لئے
اس دشتِ بے اماں سے نکل آپ کے لئے
اے روحِ کائنات بدل  آپ کے لئے
1994ء
عبید اللہ علیم ؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں