17۔ پیار سب سے نفرت کسی سے نہیں

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ85۔87

17۔ پیار سب سے نفرت کسی سے نہیں

میر محفل کبھی تھا وہ جانِ جہاں
دیکھ کے جس کو ہر شخص خورسند تھا
نافلہ تھا مسیح کا وہ عالی گہر
اَور فضلِ عمر کا وہ فرزند تھا
ذات اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوئی
کام اس کا زمانے میں موجود ہے
جا کے مغرب میں پیغام حق کا دیا ہے
آج واں کُفر کی راہ مسدُود ہے
زندگی کی چمک سے دَمکتا ہوا
اس کے چہرے پہ کیسا عجب نور تھا
اُس کی ہر بات امید کی روشنی
یاسیت کے اندھیروں سے وہ دور تھا
سلسلہ تھا حوادث کا جاری مگر
یاس کا لفظ بھی لَب پہ آیا نہ تھا
موجزن دَرد کا دل میں دریا مگر
کرب کا اُس کے چہرے پہ سایا نہ تھا
مسکراتا رہا آپ بھی وہ سدا
مسکرانے کی تلقین کرتا رہا
اِس جماعت کو تسکین دیتا رہا
اِس کی راہوں کی تعیین کرتا رہا
اس کی صورت حسیں، اُس کی سیرت حسیں
وہ شگفتہ دہن، وہ کشادہ جبیں
درس اہلِ وفا کو یہی دے گیا
پیار سب سے کسی سے بھی نفرت نہیں
سات سو سال کے بعد مسجد کی پھر
اُس کے ہاتھوں سے رکھی گئی ہے بنا
بہرِ تشنہ لباں اُس نے اسپین میں
چشمۂ فیضِ حق پھر سے جاری کیا
یاد تازہ تھی فضلِ عمر کی ابھی
اک نیاوار تقدیر نے کر دیا
چوٹ تازہ ہوئی زخم رسنے لگے
اک نیا درد دل میں میرے بھر دیا
چیز جس کی تھی واپس وہی لے گیا
کوئی شکووں کا حق بھی ہمارا نہیں
اپنے رب کی رضا پہ ہی راضی ہیں ہم
اس کی ناراضگی تو گوارہ نہیں
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

18۔ محبتوں کا سفیر

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ88۔90

18۔ محبتوں کا سفیر

اپنے ربِّ کریم سے میں نے
اپنے آقا کی زندگی مانگی
پر خدا جانے کس لئے میری
نہ دعا کوئی مُستجاب ہوئی
وہ جو اوجھل ہؤا نگاہوں سے
دل نے ہر دم اسے صدا دی ہے
کوئی شکوہ بھی کر نہیں سکتے
چیز جس کی تھی اس نے لے لی ہے
یاد سے اس کی میرے سینے میں
درد کے لہرئیے سے بنتے ہیں
میری آنکھوںمیں بند ہے برسات
میرے دل میں الاؤ جلتے ہیں
ایک مشفق سا دِلرُبا چہرہ
ذہن میں میرے مسکراتا ہے
جب نظر رُوبَرُو نہیں پاتی
میرا دل ڈوب ڈوب جاتا ہے
وہ اولوالعزم باپ کا بیٹا
عزم اور حوصلے میں یکتا تھا
خندہ پیشانی وصف تھا اُس کا
ہر گھڑی مسکراتا چہرہ تھا
اُس کے چہرے پہ تازگی، کا نکھار
زیرِ لب دائمی تبسّم تھا
جس سے ڈھارس دلوں کی بندھ جائے
کس قدر دلنشیں تکلّم تھا
اہلِ مشرق کے واسطے ڈھارس
اہلِ مغرب کو وہ خوشی کی نوید
غلبہئ دین کی صدی کے لئے
کتنا پُر عزم، کتنا پُر اُمید
بُغض اور نفرتوں کی دنیا میں
بن کے آیا محبتوں کا سفیر
وہ شدائد میں عزم کا پیکر
وہ مصائب میں صبر کی تصویر
مانتی ہوں کہ بے عمل ہیں ہم
مانتی ہوں گناہ گار بھی ہیں
باوجود اپنے سب معاصی کے
ہم امینِ وفا و پیار بھی ہیں
میرے مالک ہمارے جرموں کی
اِس جماعت کو نہ سزا دیجو
ہم خطا کار و بے عمل ہی سہی
تُو تو ارحم ہے رحم ہی کیجو
جانے والے کا دَور خوشکن تھا
آنے والا بھی خیر لایا ہو
جانے والے پہ تیری رحمت ہو
آنے والے پہ تیرا سایا ہو
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

19۔ ناصر دینِ متیں یاد آگئے

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ91۔92

19۔ ناصر دینِ متیں یاد آگئے

اے خدا، اے کردگار و کارساز
اے مِرے پیارے مرے بندہ نواز
تو کہ ناواقف نہیں احوال سے
تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے کوئی راز
بے عمل ہوں میں، مرا دامن تہی
بس محبت ہی تری میری نماز
کر بھی دے میرے گناہوں کو معاف
تُو نے فرمایا درِ توبہ ہے باز
کر قبول اے مالک ارض و سماء
التجائے بندۂ عجز و نیاز
گر قبول افتد زہے عزّو شرف
میری آنکھوں کی نمی، دل کا گداز
خادمانِ رجل فارس ہم بھی ہیں
کم ہے جتنا بھی کریں قسمت پہ ناز
مسجدِ اسپین میں اسلام کا
باب اک کھولا گیا تاریخ ساز
جس تڑپ سے یہ بِنا رکھی گئی
وہ تڑپ ہر قلب کو کر دے گداز
یہ زمیں پھر وہ نظارے دیکھ لے
آگریں سجدوں میں محمود و ایاز
لا الٰہ کی ضرب ہے تثلیث پر
یہ بشارت ہے پئے قومِ حجاز
ناصرِ دینِ متیں یاد آگئے
دیکھ کر اس کے مناروں کا فراز
چیز تیری تھی سو واپس لے گیا
میرے شکووں کا نہیں کوئی جواز
دے خلافت کو بقائے دائمی
رحمتوں سے اپنے بندوں کو نواز
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

20۔ آقا ترے بغیر یہ گلشن اُداس ہے

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ93۔94

20۔ آقا ترے بغیر یہ گلشن اُداس ہے

آقا ترے بغیر یہ گلشن اداس ہے
ماحول ہی اداس ہے کہ مَن اداس ہے
فتنوں کی شورشوں سے نہیں مضطرب یہ دِل
ہاں آنکھ بے کئے ترا درشن اداس ہے
ہجر و فراقِ یار کا عالم نہ پوچھئے
آئینہ دل کا ، رُوح کا دَرپن اداس ہے
تیرے بغیر رونقِ بزمِ چمن نہیں
سَرووسمن اداس ہیں، سوسن اداس ہے
خورد و کلاں کے سینے ہیں صدیوں کا غم لئے
پِیری فسردہ دل ہے تو بچپن اداس ہے
اہلِ وَفا کے جذبے ہیں یکسانیت لئے
ایواں ہو یا غریب کا مسکن اداس ہے
محروم دید سے مری آنکھیں ہیں اشکبار
لالے کا داغ دل میں ہے دھڑکن اداس ہے
اہلِ چمن پہ بار ہے خاموشیوں کا بوجھ
اے عندلیبِ خوش نوا گلشن اداس ہے
بستی کا اپنی حال نہ پوچھو کہ آج کل
محبوب کے فراق میں بِرہن اداس ہے
ہر ایک دل سے اُٹھتی ہے بس ایک ہی پُکار
” موسیٰ پلٹ کہ وادئ اَیمن اداس ہے ”
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

21۔ اے قادرِ مطلق یہ تو بتا پھر لوٹ کے کب تک آئیں گے

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ95۔97

21۔ اے قادرِ مطلق یہ تو بتا پھر لوٹ کے کب تک آئیں گے

عرفان کی بارش ہوتی تھی جب روز ہمارے ربوہ میں
اے کاش کہ جلدی لوٹ آئیں وہ دن وہ نظارے ربوہ میں
جب علم کی محفل جمتی تھی عرفان کی باتیں ہوتی تھیں
دن یاد بہت وہ آتے ہیں جو ساتھ گزارے ربوہ میں
اے بے بصرو! کیا تم کو خبر اُس لذّت کی جب ہوتے تھے
عشاق کی محفل میں اُن کی چِتوَن کے اشارے ربوہ میں
گرداب سے نکلو ہم تم کو ساحل سے صدائیں دیتے ہیں
رُخ اپنے سفینوں کے موڑو پاؤ گے کنارے ربوہ میں
اے تخت نشینو! ہم تو اُنہی آنکھوں کا اشارہ دیکھتے ہیں
خوش فہم نہ ہو کہ چلتے ہیں فرمان تمہارے ربوہ میں
جو آگ لگائی ہے تم نے وہ تم کو ہی جھلسائے گی
اے صاحبِ شر ! کر ہوش ذرا نہ پھینک شرارے ربوہ میں
مجبور سہی، لاچارسہی ہے کرب و بَلا کا دَور مگر!
پُر عزم بھی ہیں با حوصلہ بھی رہتے ہیں جو سارے ربوہ میں
کچھ جان کی بازی ہار گئے، پر لاج وفاؤں کی رکھ لی
خوں رنگ لبادوں میں آئے اللہ کے پیارے ربوہ میں
تسکین سماعت پاتی ہے، ذہنوں کو جِلا بھی ملتی ہے
پر دید کی پیاس کا کیا کیجئے، بھڑکی ہے جو سارے ربوہ میں
کب ساقی بزم میں آئے گا، کب جام لُنڈھائے جائیں گے
دو قطروں سے کب ہوتے ہیں رندوں کے گزارے ربوہ میں
جب تک یہ سانس کا رشتہ ہے بندھن بھی آس کا قائم ہے
الطاف کے خوگر بیٹھے ہیں رحمت کے سہارے ربوہ میں
پھر نغمۂ بلبل گونجے گا پھر پھول چمن میں مہکیں گے
پھر لَوٹ بہاریں آئیں گی سَو رُوپ نکھارے ربوہ میں
پھر تارے تابندہ ہوں گے پھر چاند اُجالا پھیلے گا
ہر سمت نظر آئیں گے وہی پھر نور کے دھارے ربوہ میں
پھر جلوے بزم سجائیں گے، پھر دید کی پیاس بجھائیں گے
پھر دیکھنے والے دیکھیں گے گلرنگ نظارے ربوہ میں
جب اِذن الٰہی ہو گا پھر اک شان سے واپس آئیں گے
آغوشِ امامت کے پالے مہدی کے دُلارے ربوہ میں
اے قادرِ مطلق یہ تو بتا پھر لَوٹ کے کب تک آئیں گے
وہ دن کہ اذانوں سے گونجا کرتے تھے منارے ربوہ میں
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

22۔ نظریں فلک کی جانب ہیں خاک پر جبیں ہے

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ98۔101

22۔ نظریں فلک کی جانب ہیں خاک پر جبیں ہے

ہر ایک ہے ہراساں یہ دَور نکتہ چیں ہے
ہر دل میں ہے تکدّر، آلودہ ہر جبیں ہے
ناپختہ ہر عمل ہے، لرزیدہ ہر یقیں ہے
وصلِ صنم کا خواہاں شاید کوئی نہیں ہے
فکروں سے دل حزیں ہے جاں درد سے قریں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے
آنکھوں میں سیلِ گریہ، سینہ دھواں دھواں ہے
ہر نفس مضطرب ہے ہر آنکھ خونچکاں ہے
ہونٹوں پہ مسکراہٹ، دل مہبطِ فغاں ہے
فُرقت میں یاں تڑپتا انبوہِ عاشقاں ہے
غربت میں واں پریشاں اک دِلرُبا حسیں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے
اک دَورِ پُر سکوں کا آغاز چاہتی ہوں
لَے ہو طرب کی جس میں وہ ساز چاہتی ہوں
نظرِ کرم ہی میرے دمساز چاہتی ہوں
میں تیرے لفظ کُن کا اعجاز چاہتی ہوں
سب کی ہے تو ہی سنتا اِس بات کا یقیں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے
انسانی لغزشوں سے میں ماورا نہیں ہوں
ماحول سے علیحدہ ربُ الوریٰ نہیں ہوں
لیکن میں تجھ سے غافل میرے خدا نہیں ہوں
میں بے عمل ہوں بےشک پر بے وفا نہیں ہوں
نظریں بھٹک رہی ہیںپر دل میں   مکیں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے
میں مانتی ہوں میرا خالی ہے آبگینہ
نہ آہِ صبح گاہی نہ زارئ شبینہ
تسلیم کا سلیقہ نہ پیار کا قرینہ
پر میری جان میرا شق ہو رہا ہے سینہ
اب اس میں تابِ فکر و رنج و محن نہیں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے
بے چین ہو کے کوئی دن رات رو رہا ہے
وہ اپنی سجدہ گاہیں ہر دم بھگو رہا ہے
دامانِ صاف اپنے اشکوں سے دھو رہا ہے
تو جانتا ہے سب کچھ یاں جو بھی ہو رہا ہے
ہے روح بھی فسردہ دل بھی بہت حزیں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے
کرب و بلا کے لمحے بڑھتے ہی جا رہے ہیں
سوز و گداز میرا سینہ جلا رہے ہیں
یہ ناگ وسوسوں کے پل پل ڈرا رہے ہیں
سب صبر و ضبط میرا کیوں آزما رہے ہیں
کچھ اس کا بھی تدارک تُو ربِّ عالمیں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے
ذوقِ دعا کو میرے رنگِ ثبات دے دے
جامِ لِقا پلا دے، آبِ حیات دے دے
یہ تو نہیں میں کہتی کُل کائنات دے دے
فرقت کی تلخیوں سے بس تو نجات دے دے
نظریں فلک کی جانب ہیں خاک پر جبیں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے
تیرہ شبی ہے ابرِ اوہام بھی گھنیرا
لیکن یقیں ہے مجھ کو نزدیک ہے سویرا
نادم بہت ہوں لب پہ آیا گِلا جو تیرا
تو نے تو ہر کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا
تو رحمتِ اتم ہے ستّار مذنبیں ہے
”جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے ”
تضمین بر مصرع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

23۔ ”جو دُور ہیں وہ پاس ہمارے کب آئینگے”

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ102۔105

23۔ ”جو دُور ہیں وہ پاس ہمارے کب آئینگے”

کب پوپھٹے گی نُور نظارے کب آئیں گے
ظُلمت میں روشنی کے منارے کب آئیں گے
دل ہر گھڑی ہے جن کو پکارے کب آئیں گے
جو دُور ہیں وہ پاس ہمارے کب آئیں گے
دِل جن کو ڈھونڈتا ہے وہ پیارے کب آئیں گے
ماےوسی ہے گُناہ پر آخر تو ہیں بشر
کب ختم ہو گا کرب و اذیّت کا یہ سَفر
تیرہ شبی ہے تابہ کے؟ پُھوٹے گی کب سحر
ہر دم لگی ہوئی ہے سرِ راہ پر نظر
آخر ہماری آنکھ کے تارے کب آئیں گے
ہر آنکھ اشکبار، برستی، اداس ہے
ہر جان بے قرار، ترستی، اداس ہے
گر دِل ہے سوگوار، تو ہستی اداس ہے
یا رب ہمارے شاہ کی بستی اداس ہے
اِس تخت گاہ کے راج دلارے کب آئیں گے
آنکھوں میں سیلِ اشک ہے، ہونٹوں پہ آہ ہے
جو ہم سے دُور ہیں اُنہیں ملنے کی چاہ ہے
ہر اک سراپا سوز، مُجسّم کراہ ہے
لب پہ دُعا ہے تیرے کرم پر نگاہ ہے
عاشق ترے، حبیب ہمارے کب آئیں گے
دَرد و الَم کی شدّتیں ہیں سوز کا وفور
ربِ کریم کر دے یہ ساری بلائیں دُور
جلوے تجلّیات کے اَب اے خدائے نُور
جو سَر کو خَم کئے تری تقدیر کے حضور
تیری رضا کو پاکے سِدھارے، کب آئیں گے
بے مائیگی کا اپنی میں کرتی ہوں اعتراف
بارِ الٰہا! میری ہو ہر اک خطا معاف
تُو ساتھ ہو تو کیا جو زمانہ بھی ہو خلاف
کب راہ ان کی تیرے فرشتے کریں گے صاف
کب ہوں گے واپسی کے اشارے کب آئیں گے
دل محوِ یادِ یار ہے تو ذہن سُوئے گُل
ہے سوچ کہ بھٹک رہی اطرافِ کوئے گُل
نظروں میں ہے بَسا ہوا گُل رنگ روئے گُل
صحنِ چمن سے گُل جو گئے مثلِ بوئے گُل
رحمت کی بارشوں سے نکھارے کب آئیں گے
یہ جَبر و ظُلم و جور کا سورج ڈھلے گا کب
پھر ہم پہ بابِ رحمتِ یزداں کھلے گا کب
پھر سے وہ دَور ِ ساغر و مینا چلے گا کب
زخمِ جگر کو مرہمِ وصلت ملے گا کب
ٹوٹے ہوئے دلوں کے سہارے کب آئیں گے
گھیرے ہوئے ہے ذہن کو افکار کا ہجوم
بے چین ہیں، کئے ہوئے اندیشۂ و ہموم
جُھلسا رہی ہے گلشنِ امید کو سموم
دیکھیں گے کب وہ محفل کالبدر فی النجوم
وہ چاند کب ملے گا وہ تارے کب آئیں گے ”
تضمین بر اشعار حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحب
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

24۔ تمہیں مُبارک ہو اہلِ مشرق محبتوں کا سَلام آیا

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ106۔108

24۔ تمہیں مُبارک ہو اہلِ مشرق محبتوں کا سَلام آیا

تمہیں مبارک ہو اہلِ مشرق! محبتوں کا سَلام آیا
تمہارے آقا کی شفقتوں اور چاہتوں کا پیام آیا
طویل تر فاصلے، کڑی دُھوپ، راہ پُر پیچ آبلہ پا
رہِ وفا میں نہ اِس سے پہلے تھا ایسا مشکل مقام آیا
جدائیوں میں تو عشق کی آگ کی تپش اور بڑھ گئی ہے
سکون و صبر و قرار دل کو نہ صبح آیا نہ شام آیا
ہموم کی منزلوں سے گزرے ہیں فکر کی رہ گزر بھی طے کی
خیالِ بے مائیگی بھی دل میں قدم قدم گام گام آیا
یہ کرب اور ابتلاء کے لمحے سعادت اِس طور بن گئے ہیں
عجیب لذّت سجود میں تو عجیب لُطفِ قیام آیا
زہے مقدّر اے خوش نصیباں کہ پیار کی چاشنی میں ڈوبا
تمہارے محبوب کی طرف سے یہ خط تمہارے ہے نام آیا
غموں کی جو تلخیاں مٹا دے جو ذہن و دل کو سکون بخشے
وہ مدھ بھرا، وہ سُرور آور کلامِ شیریں کلام آیا
تمہاری خوشیاں جھلک رہی ہیں کسی کی قسمت کے زائچے میں
نویدِ فتح و ظفر لئے یہ سروش کا ہے پیام آیا
تمہارے آقا کی ہے یہ خواہش کہ سونے والوں کو بھی جگا دو
خبر دو ظُلمت کے باسیوں کو کہ روشنی کا نظام آیا
نقاب رُخ سے اٹھا رہا ہے، حسین جلوے دکھا رہا ہے
نوید ہو دید کے پیاسو کہ حُسن بالائے بام آیا
مہیب تاریکیاں چَھٹی ہیں زمین پر چاندنی ہے اُتری
جو عکس خورشید کا لئے ہے فلک پہ وہ ماہِ تام آیا
ہماری کوتاہئی نظر ہے جو لُطف اُس کا نہ دیکھ پائیں
پیامِ رحمت تو عاصیوں کو ہمیش آیا، مدام آیا
نہ خُم، سبو، ساغر وصراحی، نہ جام و مینا ہی مِلک میری
یہ میرے ساقی کی ہے نوازش کہ میرے ہاتھوں میں جام آیا
میری ادا تو کوئی بھی ایسی نہ تھی کہ جو اُن کا دل لُبھاتی
فقط مِرا جذبۂ وفا ہے کہ آج جو میرے کام آیا
نہیں ہے علم اِس کا دشمنوں کو کہ جال قُدرت بھی بُن رہی ہے
چلی ہے جس نے بھی چال کوئی وہ آپ ہی زیرِ دام آیا
قسم خدا کی نہیں دلوں میں ہمارے دُنیا کا خوف کوئی
ہمارا حامی وہی ہے جس کی گرفت میں لیکھرام آیا
ہمیں بھی نسبت ہے مَردِ فارس سے اِ ک نگاہِ کرم ہو آقا!
تمہارے در پہ بڑی امیدیں لئے یہ اَدنیٰ غلام آیا
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

25۔ شفا دے شفادے شفاؤں کے مالک

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ109۔111

25۔ شفا دے شفادے شفاؤں کے مالک

ہماری امیدوں کا مرکز ہے تو ہی ہمیں اپنی رحمت کے جلوے دکھا دے
تو چارہ گروں کو عطا کر بصیرت انہیں مالکا دستِ معجز نما دے
جو ہیں چارہ سازی کے اسرار مولا، کرم سے تو اپنے انہیں سب سکھا دے
فراست دماغوں، حصانت ارادوں، بصارت نگاہوں کو دل کو جِلادے
شفادے شفادے، شفاؤں کے مالک، مرے سارے پیاروں کو کامل شفادے
یہ کشکول ہے سامنے تیرے رکھا اسے اپنے فضلوں سے بھر دے خدایا
نہ میں تجھ سے مانگوں تو پھر کس سے مانگوں تو سب کو ہے دیتا تو سب کا ہے داتا
تو سب کا ہے ماویٰ، تو سب کا ہے ملجا، تو سب کا ہے والی تو سب کا ہے مولا
تو سب کا ہے ساقی ذرا جام بھر بھر کے لطف و کرم کے ہمیں اب پلادے
شفادے شفادے، شفاؤں کے مالک، مرے سارے پیاروں کو کامل شفادے
کسی گھر کی رونق، کسی دل کی چاہت تو آنکھوں کی پتلی کا تارا ہے کوئی
کہیں ذات سے اپنی بڑھ کے ہے کوئی کہیں جان سے اپنی پیارا ہے کوئی
کسی کی نگاہوں کا محور ہے کوئی، کسی زندگی کا سہارا ہے کوئی
تو سب جانتا ہے، تجھے سب خبر ہے تو شانِ کریمی کے جلوے دکھا دے
شفادے شفادے، شفاؤں کے مالک، مرے سارے پیاروں کو کامل شفادے
ہے جو روک بھی سامنے سے ہٹا دے ، ہمارے لئے راہ ہموار کر دے
براہیمی سنت دکھا میرے پیارے، یہ دہکی ہوئی آگ گلزار کر دے
کوئی نا امیدی کا لمحہ نہ آئے مجھے اور بھی جو گنہگار کردے
نویدِ مسرت سنا کر ہمیں اب گرفتہ دلوں کی تو ڈھارس بندھا دے
شفادے شفادے، شفاؤں کے مالک، مرے سارے پیاروں کو کامل شفادے
کہیں درد کی داستانیں چھڑی ہیں کوئی اپنے زخموں کو سہلا رہا ہے
کہیں چارہ گر خود کو مجبور پاکے کسی دل شکستہ کو بہلا رہا ہے
ہمہ وقت دھن سوز کی سنتے سنتے مری جاں کلیجہ پھٹا جا رہا ہے
ذرا چھیڑ دے ساز ”کُن” کو مُغنی مدھر لَے میں نغمہ طرب کا سنا دے
شفادے شفادے، شفاؤں کے مالک، مرے سارے پیاروں کو کامل شفادے
لئے آنکھ میں آنسوؤں کی روانی ترے در پہ کوئی خمیدہ کھڑا ہے
جو اوروں کا دکھ بھی سمیٹے ہوئے ہے بہت دیر سے آبدیدہ کھڑا ہے
ہے سینہ فِگار اور سوچیں ہیں زخمی جگر سوختہ دل تپیدہ کھڑا ہے
وہ صبر و رضا کا ہے پیکر تو خود لطف سے اپنے ہر فکر اس کی مٹا دے
شفادے شفادے، شفاؤں کے مالک، مرے سارے پیاروں کو کامل شفادے
خزانے میں تیرے کمی تو نہیں ہے خزینۂ ہستی کے وا باب کر دے
تو قادر ہے تو مقتدر ہے خدایا ہمارے لئے پیدا اسباب کر دے
ہیں پژمردہ جو پھول رحمت کی شبنم تو ڈال ان پہ اور اُن کو شاداب کر دے
کرشمہ دکھا اپنی قدرت کا پیارے جو بگڑے ہوئے کام ہیں سب بنا دے
شفادے شفادے، شفاؤں کے مالک، مرے سارے پیاروں کو کامل شفادے
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

26۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی بیماری کے ایام میں ایم ٹی اے پر آپ کو دیکھ کر اور آپ کی باتیں سن کر

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ112۔113

26۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی بیماری کے ایام میں ایم ٹی اے پر آپ کو دیکھ کر اور آپ کی باتیں سن کر

میری جاں دل کو دُکھانے کی تو نہ باتیں کرو
روح پر بجلی گرانے کی تو نہ باتیں کرو
مدتوں سے منتظر ہیں میری بستی کے مکیں
اُن کو ڈھارس دو ڈرانے کی تو نہ باتیں کرو
ہجر کے آزار نے برسوں رُلایا ہے جنہیں
تم بھی اب اُن کو رُلانے کی تو نہ باتیں کرو
دِل کہ جو پہلے ہی زخموں سے ہؤا ہے داغ داغ
اس پہ تم چرکے لگانے کی تو نہ باتیں کرو
زندگی تو یوں بھی ہے اک امتحاں در امتحاں
آج تم بھی آزمانے کی تو نہ باتیں کرو
مسکرا کے دو ہمیں بھی مسکرانے کی نوید
اس طرح آنسو بہانے کی تو نہ باتیں کرو
لوٹ آؤ میری دنیا میں بہاروں کو لئے
اک الگ دنیا بسانے کی تو نہ باتیں کرو
جانتی ہوں خوب میں کہ کیا مری اوقات ہے
اور نظروں سے گرانے کی تو نہ باتیں کرو
غیر تو ہے غیر خوش ہوگا مری تکلیف سے
میرے دشمن کو ہنسانے کی تو نہ باتیں کرو
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ