9۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعودؓ کی یاد میں

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ58۔62

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعودؓ کی یاد میں

صُبحیں افسردہ ہیں شامیں ویران ہیں
گلیاں خاموش ہیں کوچے سنسان ہیں
دیکھتے دیکھتے رونقیں کیا ہوئیں
آج ربوہ کے سب لوگ حیران ہیں
ہر شجر، ہر حجر آج ہے سرنگوں
کتنی افسردگی کوہساروں پہ ہے
آج ہر دل ہے شق، آنکھ ہے خونچکاں
کس قدر بے کسی سوگواروں پہ ہے
چاندنی ماند ہے، چاند بھی ماند ہے
وہ چمک بھی ستاروں میں باقی نہیں
پھول توڑا ہے گلچیں نے وہ باغ سے
دلکشی اب بہاروں میں باقی نہیں
چل دیا آج وہ فخر عصرِ رواں
جس کی ہستی پہ اِس دَور کو ناز تھا
وہ کہ اپنے پرائے کا غمخوار تھا
وہ کہ اپنے پرائے کا دمساز تھا
وہ کہ مُردہ دلوں میں جو دم پھونک کر
زندگی کے ترانے سناتا رہا!
جو سدا صبر کا درس دیتا رہا
جو مصائب میں بھی مسکراتا رہا
شفقتیں دُشمنوں پہ بھی کرتا رہا
وہ محبت کا اک بحرِ زخّار تھا
ڈانٹتا بھی رہا تربیت کے لئے
اُس کے غصّے میں بھی لیک اک پیار تھا
وہ مرقع تھا عِلم اور عِرفان کا!
اِک فراست، ذہانت کا پیکر تھا وہ
معرفت کے خزانے تھے حاصل اُسے
بحرِ روحانیت کا شناور تھا وہ
اُس نے اپنی ذرا بھی تو پرواہ نہ کی
اُس کے دل میں تو بس اک یہی تھی لگن
ہو خزاں کا تسلّط نہ گلزار پر
لہلہاتا رہے دینِ حق کا چمن
وہ کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کے رویا کِیا
کہ جماعت یہ دنیا میں پُھولے پھلے
رحمتِ حق رہے اِس پہ سایہ فگن
چشمہء فیضِ حق اِس میں جاری رہے
اہلِ دنیا کی حالت پہ کر کے نظر
وہ کہ اشکوں کے موتی پروتا رہا
وہ کہ سجدے میں گر کے بِلکتا رہا
اور جہاں چین کی نیند سوتا رہا
شق ہو پتھر کا سینہ بھی سُن کر جنہیں
صبر سے ایسی باتیں وہ ُسنتا رہا
خار دامن سے اس کے اُلجھتے رہے
وہ ہمارے لئے پُھول چُنتا رہا
اس کو اپنے پرائے ستاتے رہے
پر ہمیشہ وہ حق بات کہتا رہا
آنچ آنے نہ دی اس نے اسلام پر
اپنے سینے پہ ہر وار سہتا رہا
اپنے لُطف و کرم اور اخلاق سے
وہ زمانے کو تسخیر کرتا رہا
اپنے خونِ جگر سے وہ اسلام کا
اک نیا دَور تحریر کرتا رہا
دینِ احمدؐ کی اُس نے بقا کے لئے
مال اپنا دیا، اپنی جاں پیش کی
اپنی اولاد کو وقف اُس نے کیا
اپنے افعال، اپنی زباں پیش کی
تشنگی کی یہ حالت رہی، عمر بھر
وہ شرابِ محبت ہی پیتا رہا
اُس کی ہر سانس تھی بس خدا کے لئے
وہ محمدؐ کی خاطر ہی جیتا رہا
خدمتیں دین کی بھی وہ کرتا رہا
ہجر کی تلخیاں بھی وہ سہتا رہا
لے کے آخر میں نذرانۂ جان و دل
سوئے کوئے نگاراں روانہ ہؤا
اُس کے دم سے اُجالا تھا چاروں طرف
وہ گیا تو یہاں تیرگی چھا گئی
چاند روشن ہے اب بھی اُفق پہ مگر
”میرے سورج کو کِس کی نظر کھا گئی” ١؎
١؎    یہ مصرعہ احمد ندیم قاسمیؔ صاحب کا ہے۔
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

10۔ قطعات ۔ حضرت المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی یاد میں

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ63۔66

10۔ قطعات ۔ حضرت المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی یاد میں

لو آج ابنِ مہدیء مسعود چل دیا
محبوب میرا، وہ مرا محمود چل دیا
اہلِ وفا کو عشق کی راہوں پہ ڈال کر
وہ رہنما، وہ مصلحِ موعود چل دیا
رفتارِ وقت روکتے رُکتی بھی ہے کبھی؟
ناداں تھا دل جو ایسے گماں سے بہل گیا
سوئے ہوئے تھے چین سے غفلت کی نیند میں
آنکھیں کھلیں تو دیکھا کہ سورج بھی ڈھل گیا
یوسف بھی دیکھ کے ہو خجل ایسا حسن تھا
وہ رنگ، وہ نکھار، وہ چہرے کے خدوخال
معصومیّت بلا کی، تبسم کی جھلکیاں
چہرے کی دلکشی لب و رخسار کا جمال
گزرا ہے وقت کب ہمیں احساس نہ ہوا
بچے بڑھے، جوانوں کا ڈھلنے لگا شباب
آواز آئی یہ تو سبھی چونک سے گئے
نکلا وہ چاند چرغ پہ ڈوبا وہ آفتاب
محمود نام ہے ترا، ہر کام خیر ہے
ہر فعل، ہر عمل ترا، ہر گام خیر ہے
تیری تمام زندگی تقویٰ کی ہے مثال
آغاز خیر تھا ترا انجام خیر ہے
فضلِ عمر کے عہد کی وہ قیمتی کتاب
جس کا خدا نے آپ ہی لکھا تھا انتساب
اک عمر جس کو پڑھ کے مسرت ملی ہمیں
لو آج ختم ہو گیا وہ زرنگار باب
اے جانے والے تیرے تصوّر میں رات دن
قلبِ حزیں سے آتی ہے بس ایک ہی صدا
تیرا فراق ہم کو گوارا نہ تھا مگر
ترکِ رضائے خویش پئے مرضی خدا
آنکھوں میں سیلِ اشک ہیں دل ہیں دھواں دھواں
ہیں گرچہ اَب بھی جانبِ منزل رواں دواں
راہیں ہیں سوگوار تو راہی اداس ہیں
اِس کارواں کی جان تھا وہ میرِ کارواں
اِک بار اور محفلِ ہستی اُجڑ گئی
پیش آ گیا ہے زیست کو اِک اور مرحلہ
چھینی گئی ہے راہ میں اِک قیمتی متاع
غُربت میں لُٹ گیا ہے غریبوں کا قافلہ
تیرا وجود نعمتِ عظمیٰ سے کم نہ تھا
احسان تھا وہ ہم پہ خدائے کریم کا
وہ دورِ کیف آفریں یوں ختم ہو گیا
جنت سے گویا آیا تھا جھونکا نسیم کا
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

11۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعودؓ کی یاد میں

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ67۔68

11۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعودؓ کی یاد میں

کلی کلی ہے مضمحل، روش روش اداس ہے
وہ باغباں کدھر گیا کہ تھا جو زینتِ چمن
وہ خوش بیان اُٹھ گیا، وہ دَور ختم ہوگیا
وہ بات ختم ہو گئی کہاں ہے لذّتِ سخن
جو پیار کا نقیب تھا، جو قوم کا نصیب تھا
دلوں کے جو قریب تھا اُسی کو ڈھونڈتا ہے من
مرے حبیب، کیا خبر تجھے ترے فراقِ میں
ہیں دل یہاں دھواں دھواں تو تار تار پیرہن
مری وفا کی ہے گواہ میری سوزشِ دروں
مری یہ دِل گرفتگی یہ میری آنکھ کی چُبھن
مری نظر میں آج بھی ہے تیرے حُسن کی ضیائ
ہیں اب بھی میرے ذہن میں وہ چشم و ابرو و دہن
مجھے ہیں یاد آج بھی وہ تیری مسکراہٹیں
تری جبیں پہ وہ تِری شگفتگی کا بانکپن
تِری ادائے دلنشیں، تِری نگاہِ دُوربیں
تِری وہ خوش بیانیاں، وہ تیرا داؤدی لحن
برائے دینِ مصطفیؐ تِری وہ بے قراریاں
برائے قومِ مصطفیؐ تِری تڑپ، تِری لگن
غلط کہ تیری قوم اب وفا شناس نہ رہی
مگر بجا کہ کچھ بدل گیا ہے ظاہری چلن
نگاہ و دِل کے زاویئے ہیں رُخ ذرا بدل گئے
دلوں کو بھا رہی ہے خوبیِء جہانِ مکروفن
مگر مقامِ شکر ہے کہ ہے ہمارے درمیاں
وہ جس کو تُو سکھا گیا ہے پاسدارئیِ چمن
اُسی کے دم سے اب بھی ہیں وہ برکتیں نصیب میں
کہ جن سے دور ہو رہی ہے فکر و یاس کی گھٹن
علاوہ اس کے اور کیا یہ میرا دل دعا کرے
یہ برکتیں ہوں دائمی خدا کرے، خدا کرے
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

12۔ خدا کرے

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ69۔71

12۔ خدا کرے

خدا کرے کہ صحبتِ امام بھی ہمیں ملے
یہ نعمتِ خلافتِ مدام بھی ہمیں ملے
خدا کرے اطاعتِ امام ہم بھی کر سکےں
خدا کرے کہ معرفت کا جام بھی ہمیں ملے
خدا کرے کہ عشقِ مصطفےٰؐ ہمارے دل میں ہو
رضائے حق کی مسندِ کرام بھی ہمیں ملے
ہوں اُس کی بزمِ ناز کی جو صحبتیں نصیب میں
تو اُس کی رہ میں طاقتِ خرام بھی ہمیں ملے
خدا کرے سجود کا سرور بھی نصیب ہو
خدا کرے کہ لذّتِ قیام بھی ہمیں ملے
خدا کی بارگاہ میں ہر ایک شب گداز ہو
حسین صبح، مسکراتی شام بھی ہمیں ملے
خدا کرے ہمارا بخت نارسا نہ ہو کبھی
خدا کرے سروش کا پیام بھی ہمیں ملے
عروجِ آدمی کی ساری رفعتیں نصیب ہوں
تو قُدسیوں کی بزم کا سلام بھی ہمیں ملے
خدا کرے رِفاقتِ خواص بھی نصیب ہو
خدا کرے محبَّتِ عوام بھی ہمیں ملے
خدا کرے کہ ہم جہاں کو کرب سے نجات دیں
فلاحِ خلق کا یہ اِذنِ عام بھی ہمیں ملے
ہمیں عطا ہو کاش بحرِ علم کی شناوری
عمل کی رہ میں شہرتِ دوام بھی ہمیں ملے
کشادگی دل و نگاہ و فکر کی نصیب ہو
خدا کرے بلاغتِ کلام بھی ہمیں ملے
علومِ دُنیوی کا ہو فروغ اپنی ذات سے
تو دین کی اشاعتوں کا کام بھی ہمیں ملے
وجاہتیں ہوں دہر کی ہمارے آگے سرنگوں
تو خادمانِ دین کا مقام بھی ہمیں ملے
ہمارے ہر عمل میں عکس ہو مسیحِؑ پاک کا
فدائیانِ مصطفےٰؐ کا نام بھی ہمیں ملے
خدا کرے جہاں کی ساری نعمتیں نصیب ہوں
خدا کرے کہ جنّتِ مدام بھی ہمیں ملے
خدا کرے ہمارے دل میں اب لگن ہی اَور ہو
خدا کرے کہ اب ہمارا بانکپن ہی اَور ہو
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

13۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعودؓ کی یاد میں

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ72۔74

13۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعودؓ کی یاد میں

عجب محبوب تھا سب کی محبت اس کو حاصل تھی
دلوں میں جڑ ہو جس کی وہ عقیدت اس کو حاصل تھی
ہیں سب یہ جانتے کہ کام معمولی نہ تھا اس کا
کہ مامورِ زمانہ کی نیابت اس کو حاصل تھی
اُسے قدرت نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے سنوارا تھا
تھا جس کا شاہکار اس کی ضمانت اس کو حاصل تھی
علومِ ظاہری اور باطنی سے پُر تھا گر سینہ
تو میدانِ عمل میں خاص شہرت اس کو حاصل تھی
اُولوالعزم و جواں ہمت تھا وہ عالی گہر ایسا
زمانے بھر سے ٹکرانے کی ہمت اس کو حاصل تھی
رضا کے عطر سے ممسوح کر کے اُس کو بھیجا تھا
وہ ایسا گُل تھا کہ ہر گُل کی نگہت اس کو حاصل تھی
اُسے ملتا تھا جو بھی وہ اسی کا ہو کہ رہ جاتا
کہ دل تسخیر کر لینے کی قوت اس کو حاصل تھی
اُٹھاتا تھا نظر اور دل کے اندر جھانک لیتا تھا
خدا کے فضل سے ایسی بصیرت اس کو حاصل تھی
خدا نے خود اسے ”فضلِ عمر ” کہہ کے پکارا تھا
عمرؓ سا دبدبہ ویسی ہی شوکت اس کو حاصل تھی
وہ نورِ آسمانی تھا زمیں پہ جو اتر آیا
کلمۃُ اللہ ہونے کی سعادت اس کو حاصل تھی
وجیہہ و پاک لڑکے کی خدا نے خود خبر دی تھی
عجب رنگِ ذکا، شانِ وجاہت اس کو حاصل تھی
وہ ذہن و فہم کی جس کے خدا نے خود گواہی دی
ذہانت اس کو حاصل تھی، فراست اس کو حاصل تھی
یہ ممکن ہے اسیروں کے جہاں میں رستگار آئیں
کہاں وہ بات لیکن جو فضیلت اس کو حاصل تھی
جو نظروں کو جکڑ لے ایسی صورت کا وہ مالک تھا
دلوں کو کھینچ لے جو ایسی سیرت اس کو حاصل تھی
تبسم زیرِ لب، روشن جبیں، روئے گلاب آسا
جو یوسف ؑ کو ملی تھی ایسی طلعت اس کو حاصل تھی
وہ اس کی زندگی کہ سعئ پیہم سے عبارت تھی
نہ دن کا چین، نہ شب کی فراغت اس کو حاصل تھی
ہجوم افکار کا، جِہدِ مسلسل اور کٹھن راہیں
مگر پھر بھی طبیعت کی بشاشت اس کو حاصل تھی
نظیرِ حسن و احسانِ مسیح و مہدیؑء دوراں
تھا جس کی ذریّت اس کی شباہت اس کو حاصل تھی
مصائب سے وہ کھیلا اور طوفانوں سے ٹکرایا
نہ اس کے عزم میں اور حوصلے میں لیک فرق آیا
الٰہی روح پہ اس کی صدا نوروں کی بارش ہو
جماعت پہ بھی اس کی تیرے فضلوں کا رہے سایہ
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

14۔ گل ستاں میں وہ رشکِ بہار آگیا

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ75۔76

14۔ گل ستاں میں وہ رشکِ بہار آگیا

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے دورہ مغرب سے واپسی کے موقع پر
قطعَات
زندگی کے چمن پہ نکھار آ گیا
آج گلشن میں وہ گلعذار آ گیا
پھول مہکے، چمن مسکرانے لگا
گل ستاں میں وہ رشکِ بہار آ گیا
دید اُس کی ہی آنکھوں کا مقصود ہے
وہ کہ موعود ہے ابنِ موعود ہے
جا کے یورپ میں پیغام حق کا دیا
آج واں کفر کی راہ مسدود ہے
وہ نگارِ حسیں ہے یہاں جلوہ گر
دیکھ کے جس کو ہر شخص خورسند ہے
نافلہ ہے مسیح کا وہ عالی گہر
اَور فضلِ عمر کا وہ فرزند ہے
شکرِ باری تعالیٰ کہ اُس نے ہمیں
قدرتِ ثانیہ کی عطا بخش دی
دے کے دَورِ خلافت کی نعمت ہمیں
اپنی رحمت کی رنگیں رِدا بخش دی
ہے دعائے دلِ درد منداں کہ یہ
دیر تک اپنے جلوے دکھاتا رہے
اس کی خوشبو سے گلشن مہکتا رہے
باغِ احمد یونہی لہلہاتا رہے
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

15۔ رخصت ہؤا

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ77۔80

15۔ رخصت ہؤا

آنکھ جس کی یاد میں ہے خونچکاں رخصت ہؤا
جس کے غم میں دل سے اٹھتا ہے دھواں رخصت ہؤا
نافلۃ لّک کی تابندہ بشارت کا ثبوت
وہ مسیحِ پاک کا زندہ نشاں رخصت ہؤا
مسجدِ اسپین اُس کی منتظر ہی رہ گئی
ناصرِ دینِ خُدا سُوئے جناں رخصت ہؤا
کچھ نئی راہوں کا بھی ہم کو پتہ بتلا گیا
ثبت کر کے اپنے قدموں کے نشاں رخصت ہؤا
حوصلہ ایسا کہ انساں دیکھ کر حیران ہو
صبرو ہمت کا وہ اک کوہِ گراں رخصت ہؤا
جس کے آگے چُپ ہوئے سب عالمانِ ذی وقار
اہلِ علم و اہلِ دانش، نکتہ داں رخصت ہؤا
لا اِلٰہ کا وِرد برلب، دعوتِ حق بَرزباں
جس کے ہر فقرے میں تھا رنگِ اذاں رخصت ہؤا
حسن، احساں، پیار، شفقت یاد کیا کیا آئیں گے
وہ شہِ خوباں، نگارِ دلبراں رخصت ہؤا
جس کا چہرہ دیکھ کر تسکین پاجاتے تھے دل
زندہ دل، روشن جبیں، شیریں دہاں رخصت ہؤا
جس کو ملتے ہی مہک اٹھتے امیدوں کے چمن!
وہ توکّل اور غِنا کا ترجماں رخصت ہؤا
سب کی تکلیفوں کو سُن کے حوصلہ دیتا رہا
مونس و غمخوار سب کا راز داں رخصت ہؤا
کرب کے دریا میں غوطہ زن رہا اُس کا وجود
غم مگر جس کا نہ ہوپایا عیاں رخصت ہؤا
زخم جو دل پر لگے وہ ہنستے ہنستے سہہ گیا
صاحبِ خندہ جبیں، خندہ لباں رخصت ہؤا
سنگ و ابریشم کی یکجائی سے تھا اُس کا خمیر
نرم فطرت، نرم خُو، پہ سخت جاں رخصت ہؤا
کر گیا تحریر ہر دل پہ وہ کچھ انمٹ نقوش
دے کے اہلِ عشق کو سوزِ تپاں رخصت ہؤا
اپنے رب کی ہر رضا پر جو سدا راضی رہا
خوش دلی سے ہمرکابِ قُدسیاں رخصت ہؤا
آخرِ دم تک بھی چہرے پہ رہا اُس کے سکوں
وہ بہ ایں اندازِ تسکین و اماں رخصت ہوا
مسکرانے کی سَدا، تلقین جو کرتا رہا
چھوڑکے آنکھوں میں اب سیلِ رواں رخصت ہؤا
گِرد جس کے کھینچ رکھا تھا حفاظت کا حصار
چھوڑ کے کیسے اُسے تنہا یہاں رخصت ہؤا
یہ ہماری ہے تو پھر جو اُس کی حالت ہو سو ہو
اُس کی نظروں میں تو گویا کُل جہاں رخصت ہؤا
شکرِ لِلّٰہ کہ کڑے لمحوں کی سختی مِٹ گئی
فضل ربی سے وہ ہنگامِ گراں رخصت ہؤا
پھر خُداکے فضل سے اک سائباں حاصل ہؤا
لوگ تو سمجھے تھے سر سے سائباں رخصت ہؤا
یاد پھر رہ رہ کے اُس کی دل کو تڑپانے لگی
وہ مرا محبُوب آقا اب کہاں؟ رخصت ہؤا
اُس کے جانے سے پرانے زخم بھی رِسنے لگے
کر کے تازہ پھر سے یادِ رفتگاں رخصت ہؤا
ہے خوشی اِس کارواں کو رہنما پھر مل گیا
غم مگر ہے وہ امیرِ کارواں رخصت ہؤا
یا الٰہی کیا کروں دل حوصلہ پاتا نہیں
جس کو نظریں ڈھونڈتی ہیں وہ نظر آتا نہیں”
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

16۔ بھول جاؤں میں جسے ایسا تو وہ چہرہ نہ تھا

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ81۔84

16۔ بھول جاؤں میں جسے ایسا تو وہ چہرہ نہ تھا

دل کی دُنیا میں کبھی ایسا بھی سَنّاٹا نہ تھا
ہم ہی ساکت ہوگئے تھے وقت تو ٹھہرا نہ تھا
ہر کوئی اپنی جگہ حیران و ششدر رَہ گیا
بات معمولی نہ تھی، یہ واقعہ چھوٹا نہ تھا
یہ بجا! کہ وسوسے بھی دل میں اُٹھتے تھے مگر
ےوں بھی ہو جائے گا ایسا تو کبھی سوچا نہ تھا
وسوسے تھے، خوف تھا، ڈربھی تھا، اندیشے بھی تھے
اتنا روشن چاند پہلے ڈوبتے دیکھا نہ تھا
حَیف اُس کے واسطے ہم اس قدر جاگے نہ تھے
جو ہماری فکر میں سُکھ سے کبھی سویا نہ تھا
ضرب کاری تھی بہت آخر شکستہ ہو گیا
دل ہی تھا پہلو میں پتّھر کا کوئی ٹکڑا نہ تھا
اُس کے سینے میں اگر ہو دَرد کی دُنیا تو ہو
اُس کے چہرے پر کسی بھی کرب کا سایہ نہ تھا
ایک اُس کے دم سے کتنی محفلیں آباد تھیں
ذات میں اپنی تھا وہ اک انجمن، تنہا نہ تھا
تھا بہاروں کا پیامی اُس کے چہرے کا گلاب
مشکلوں کے ریگذاروں میں بھی کُملایا نہ تھا
وہ ترو تازہ، شگفتہ، خنداں،روشن، دلرُبا
بُھول جاؤں میں جسے ایسا تو وہ چہرہ نہ تھا
وہ گیا کیا! اعتبارِ زندگی جاتا رہا
لُطف بزمِ ما، نکھارِ زندگی جاتا رہا
میرِ محفل چل دیا، جَانِ جَہاںرُخصت ہؤا
وہ شَہہِ خوباں، وہ ماہِ مَہ وِشاں رخصت ہؤا
بَن گئی تقدیر ساز اس کی دُعائے مُستجاب
وہ شبِ ہسپانیہ کا رازداں رخصت ہؤا
جس کے قدموں نے جِلا بخشی تھی اُس کی خاک کو
اُندلس حیران ہے کہ وہ کہاں رخصت ہؤا
عمر بھر وہ پیار کے ساغر لنڈھاتا چل دیا
شاہ دل ساقی، سخی پیرِ مغاں رخصت ہؤا
پیار بھی تھا، دلرُبائی بھی تھی، رعنائی بھی تھی
رونق و تزئینِ بزمِ دوستاں رخصت ہؤا
عجز کی راہوں پہ چل کے پا گیا اَوجِ کمال
بن کے محبوبِ خدائے دوجہاں رخصت ہؤا
کچھ اشارہ رخصتی کا، نہ وداع کی بات کی
وہ ہؤا رخصت! پہ بے سان و گماںر خصت ہؤا
یہ نہیں ہیں شعر، سوزِ زندگی کی ہے تپک
چار سُو پھیلی ہوئی ہے میرے زخموں کی مہک
چاند اِک رخصت ہؤا، اِک ماہ پارہ آگیا
جگمگاتا، روشنی دیتا ستارہ آگیا
مطلِع انوار پہ چھائی گھٹا چھٹنے لگی
پھر نظر کے سامنے روشن نظارہ آگیا
بحرِ ظُلمت میں گھرِیں تھیں کشتیاں کہ ایکدم
سامنے پھر روشنی کا اِک منارہ آگیا
مُصلِح موعود کا اِک اَور فرزندِ جلیل
حالتِ بے چارگی میں بن کے چارہ آگیا
حُسن جس کا آج تک مستور پردے میں رہا
حُسن و خُوبی کو کئے وہ آشکارا آگیا
مرحبا! پھر صاحبِ عزوّ وقار آہی گیا
پھر خُدا کی قدرتوں کا اعتبار آہی گیا
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

17۔ پیار سب سے نفرت کسی سے نہیں

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ85۔87

17۔ پیار سب سے نفرت کسی سے نہیں

میر محفل کبھی تھا وہ جانِ جہاں
دیکھ کے جس کو ہر شخص خورسند تھا
نافلہ تھا مسیح کا وہ عالی گہر
اَور فضلِ عمر کا وہ فرزند تھا
ذات اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوئی
کام اس کا زمانے میں موجود ہے
جا کے مغرب میں پیغام حق کا دیا ہے
آج واں کُفر کی راہ مسدُود ہے
زندگی کی چمک سے دَمکتا ہوا
اس کے چہرے پہ کیسا عجب نور تھا
اُس کی ہر بات امید کی روشنی
یاسیت کے اندھیروں سے وہ دور تھا
سلسلہ تھا حوادث کا جاری مگر
یاس کا لفظ بھی لَب پہ آیا نہ تھا
موجزن دَرد کا دل میں دریا مگر
کرب کا اُس کے چہرے پہ سایا نہ تھا
مسکراتا رہا آپ بھی وہ سدا
مسکرانے کی تلقین کرتا رہا
اِس جماعت کو تسکین دیتا رہا
اِس کی راہوں کی تعیین کرتا رہا
اس کی صورت حسیں، اُس کی سیرت حسیں
وہ شگفتہ دہن، وہ کشادہ جبیں
درس اہلِ وفا کو یہی دے گیا
پیار سب سے کسی سے بھی نفرت نہیں
سات سو سال کے بعد مسجد کی پھر
اُس کے ہاتھوں سے رکھی گئی ہے بنا
بہرِ تشنہ لباں اُس نے اسپین میں
چشمۂ فیضِ حق پھر سے جاری کیا
یاد تازہ تھی فضلِ عمر کی ابھی
اک نیاوار تقدیر نے کر دیا
چوٹ تازہ ہوئی زخم رسنے لگے
اک نیا درد دل میں میرے بھر دیا
چیز جس کی تھی واپس وہی لے گیا
کوئی شکووں کا حق بھی ہمارا نہیں
اپنے رب کی رضا پہ ہی راضی ہیں ہم
اس کی ناراضگی تو گوارہ نہیں
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

18۔ محبتوں کا سفیر

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ88۔90

18۔ محبتوں کا سفیر

اپنے ربِّ کریم سے میں نے
اپنے آقا کی زندگی مانگی
پر خدا جانے کس لئے میری
نہ دعا کوئی مُستجاب ہوئی
وہ جو اوجھل ہؤا نگاہوں سے
دل نے ہر دم اسے صدا دی ہے
کوئی شکوہ بھی کر نہیں سکتے
چیز جس کی تھی اس نے لے لی ہے
یاد سے اس کی میرے سینے میں
درد کے لہرئیے سے بنتے ہیں
میری آنکھوںمیں بند ہے برسات
میرے دل میں الاؤ جلتے ہیں
ایک مشفق سا دِلرُبا چہرہ
ذہن میں میرے مسکراتا ہے
جب نظر رُوبَرُو نہیں پاتی
میرا دل ڈوب ڈوب جاتا ہے
وہ اولوالعزم باپ کا بیٹا
عزم اور حوصلے میں یکتا تھا
خندہ پیشانی وصف تھا اُس کا
ہر گھڑی مسکراتا چہرہ تھا
اُس کے چہرے پہ تازگی، کا نکھار
زیرِ لب دائمی تبسّم تھا
جس سے ڈھارس دلوں کی بندھ جائے
کس قدر دلنشیں تکلّم تھا
اہلِ مشرق کے واسطے ڈھارس
اہلِ مغرب کو وہ خوشی کی نوید
غلبہئ دین کی صدی کے لئے
کتنا پُر عزم، کتنا پُر اُمید
بُغض اور نفرتوں کی دنیا میں
بن کے آیا محبتوں کا سفیر
وہ شدائد میں عزم کا پیکر
وہ مصائب میں صبر کی تصویر
مانتی ہوں کہ بے عمل ہیں ہم
مانتی ہوں گناہ گار بھی ہیں
باوجود اپنے سب معاصی کے
ہم امینِ وفا و پیار بھی ہیں
میرے مالک ہمارے جرموں کی
اِس جماعت کو نہ سزا دیجو
ہم خطا کار و بے عمل ہی سہی
تُو تو ارحم ہے رحم ہی کیجو
جانے والے کا دَور خوشکن تھا
آنے والا بھی خیر لایا ہو
جانے والے پہ تیری رحمت ہو
آنے والے پہ تیرا سایا ہو
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ