دیباچہ

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ1۔12

 دیباچہ

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
ہے دراز د ستِ دُعا مرا’ آپ کے سامنے ہے۔ یہ صاحبزادی امۃ القدوس بیگم سلمہا اللہ کے عارفانہ کلام کا مجموعہ ہے۔ اس پر تنقیدی نظر ڈالنا میرے بس کی بات نہیں۔ نہ ہی میں یہ جسارت کر سکتا ہوں کہ کسی گھسے پٹے خودساختہ معیار کو سامنے رکھ کر ایک من گھڑت پیمانے یا ترازو سے اس کلام کے قدوقامت اور حدوداربعہ کا اندازہ لگاؤں۔ پھول کو آپ کیسے ماپ سکتے ہیں۔ خوشبو کو سونگھ تو سکتے ہیں، تول نہیں سکتے۔ حرف و صوت، اظہار و بیان اور ہیئت اور معنویت پر بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے۔ کہیں ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی بحثیں ہیں۔ شعر کی قدروقیمت کو متعین کرنے کے لئے موضوعیت اور معنویت، جدیدیت اور ساختیات غرض کہ طرح طرح کے پیمانے وضع کئے جا رہے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ شعر شعر ہے۔ یہ آپ اپنی دلیل ہے۔ آفتاب آمد دلیلِ آفتاب۔ بے شک شعر کی صحیح تفہیم کیلئے اس کے سیاق و سباق اور اس کے یونیورس آف ڈس کورس یعنی اس کے پس منظر کی تفہیم بھی ضروری ہے۔ نفسیات کا معروف اور بنیادی مسئلہ Figure اور Ground یعنی منظر اور پس منظر کا ہے۔ پس منظر کے بغیر منظر کا تصور ہی نا ممکن ہے۔ اور جب منظر اور پس منظر ایک اکائی بن جائیں تو ادب عالیہ کی سرحد شروع ہو جاتی ہے۔ بے شک بقول کولرِج
Poetry is the willing suspension of disbelief.
شعر وہ ہے جو عدم یقین کو بآسانی معطل کردے یا بالفاظ دیگر جھوٹ کو سچ کر دکھاوے۔ ممکن ہے شعر کی بعض اقسام پر یہ تعریف صادق آتی ہو۔ کیونکہ الفاظ کا جادو بھی ایک حقیقت ہے۔ کولرِج کی اپنی شعری کاوشیں مثلاً قبلائی خان اور Ancient Mariner وغیرہ اسی قسم کے شعری ادب کی مشہور مثالیں ہیں۔
لیکن ایسے شعر کے ‘پیر’ تو شاید ہوں۔ ‘سر’بہرحال نہیں ہوتا۔ جسم ہو تو جان نہیں ہوتی۔ جان بھی ہو تو روح نہیں ہوتی۔ لیکن شعر کی ایک قسم وہ بھی ہے جس کی جڑیں اگر زمین میں ہوں تو شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں۔ ایسے شعر کا اگر قبلہ درست ہو تو حسن ہے۔ سچ ہے۔ خیر ہے۔ جس منظوم کلام میں یہ ابعادِ ثلاثہ جمع ہو جائیں۔ وہ شعر کہلائے گا بلکہ حقیقی معنوں میں صرف اسے ہی شعر کہا جانا مناسب ہوگا۔ ایسا تخلیقی عمل ایک گونہ اعجاز کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔ لفظ اچانک بیدار ہو جاتے ہیں اور بولنے لگتے ہیں۔ یا بقول فیض ؔ لَو دینے لگتے ہیں۔ اگر یہ معجزہ ہو جائے تو اسے شعر کہا جائے گابلکہ ان معنوں میں صرف اسے ہی شعر کہا جائے گا۔
آیئے اس پچاس سالہ بلکہ پوری انسانی تاریخ کے پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس لطیف اَور لذیذ روحانی مائدہ سے لطف اندوز ہوں۔ دیکھیں کس خوبصورتی اَور آداب کے پورے رکھ رکھاؤ کے ساتھ دنیا و مافیہا کی کدورتوں اَور گردوغبار سے نہ صرف پاک بلکہ بے نیاز، نہ گلہ ہے دوستوں سے نہ شکایت زمانہ۔ اپنے قادر اَور مالک ربِّ کریم کے دربار میں حاضر ہیں۔ زخموں کو زبان مل رہی ہے۔ دکھ درد،
خوشیاں اَور مسرتیں، قربتیں اور فاصلے اپنی اپنی گزارشات پیش کر رہے ہیں۔انسان کے شرف، مرتبے اور مقام کا ادراک اَور احساس زندہ کیا جا رہا ہے۔اور ایمان اوریقین کو ایک تازہ حوصلہ اور ولولہ ارزانی ہو رہا ہے۔ نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا۔ بس ایک ہی دھن ہے کہ سب کا خالق اور مالک راضی ہو جائے۔
آپ کا محبوب روایتی نہیں آسمانی ہے، مجازی نہیں حقیقی ہے۔ قدرتِ اولیٰ اور ثانیہ کے سب مظہر اور ان سے فراق کی باتیں ہیں۔ ان کی شعری حسّیت سچی۔ ان کے موضوعی اور معروضی حوالے سچے۔ ان کی پکار عین حقیقت یعنی زمان و مکان اور دنیا و آخرت کے خالق و مالک رحمن اور رحیم خدا کے دربار میں پکار ہے۔ فریاد ہے۔ چیخ ہے۔ جماعت معروضی حوالوں اور امتحانوں اور ابتلاؤں کی جس چکّی میں پِس کر صحیح سلامت نکلی اور ظلم و ستم کے جن مراحل میں سے گزری اور گزر رہی ہے۔ یہ امتحانی مراحل ہی ان کے اشعار کا پس منظر ہیں۔ ہجر و فراق، قرب و وصال کے قصے ہیں۔ غمِ جاں اور غمِ جاناں، ذات اور کائنات کی باتیں ہیں۔ ارباب وطن کی مہربانیوں کا ذکر ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ ظلم و ستم کی اس چکّی میں پِس کر بھی اگر کہیں حرف شکایت زبان پر آیا ہے۔ تو دعا بن کر۔ اوّل سے آخر تک سارا کلام ایک التجا ہے جو اپنے رب کے حضور کی گئی ہے۔ اور بس۔ غم ہے، فراق ہے، مجبوریاں ہیں، مظلو میت ہے۔ لیکن کہیں غصّے یا جھنجھلاہٹ کا شائبہ تک نہیں۔ سارا کلام اپنے رب کے حضور ایک مسلسل مناجات ہے اور اس دعا کے بیسیوں رنگ ہیں اور بے شمار پہلو۔ کہیں اپنے محبوب آقا سے باتیں ہیں۔ کہیں جانے والوں کا ذکر ہے۔ کہیں آنے والوں سے محبت اور وفا کے تذکرے ہیں۔ قاری ایک محویت کے عالم میں غیر شعوری طور پر ساتھ ساتھ چلنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ہرچند کہ الفاظ کا ذخیرہ تو وہی ہے جسے شاعر اور غیر شاعر روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جب وہی الفاظ آپ کے قلم سے ادا ہوتے ہیں۔ تو زندہ ہو جاتے ہیں۔ ان کا ہجر عام ہجر نہیں رہتا نہ ہی ان کا غم معروف قسم کا غم۔ اگرچہ ان کے کلام کا قالب ارفع، شعری روایت سے الگ اور مختلف نہیں۔ لیکن اس کلام کی روح سچی اور جذبات پاکیزہ ہیں۔ سارے کلام میں غم کے ساتھ ساتھ کہیں بھی مایوسی یا فرسٹریشن کی ہلکی سی جھلک بھی نہیں۔ ایک یقین ہے۔ ایمان ہے۔ وفا ہے۔ امید ہے۔ ایفائے عہد ہے اور اس فرقت اور شدتِ غم میں بھی ایک کیف و سرور ہے۔ نشاط ہے۔ نشہ ہے محبوب سے گفتگو ہے۔ اور اس گفتگو میں جو لاڈ اور پیار ہے وہ اگر ممکن ہے تو اس روحانی اور آسمانی فضا ہی میں ممکن ہے۔
مرزا غالبؔ کہتے ہیں شعر خود خواہش آں کرد کہ گردد فنِ ما۔ بے شک لکھاری نہیں لکھتا۔ لکھت لکھتی ہے۔ اَور بے ساختہ پن ہی شعر کی جان ہوا کرتا ہے۔ یہ خصوصیت بھی آپ کے کلام کا جزواعظم ہے۔ یہ دین ہے جسے داتا دے دے۔ اگرچہ فن کا یہ لفظ جسے سادہ پُرکاری بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں محل نظر ہے۔ شعر یعنی سچے شعر کے خالق کو فنکار کہنا مجھے تو مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ سادہ پرکاری بھی ریزہ کاری اور تکلّف اور تصنع کا مفہوم اپنے اندر رکھتی ہے۔ غم سچا ہو اور نیت نیک اور قبلہ درست ہو تو واقعی غیب سے مضامین آتے ہیں۔ اور صریر خامہ نوائے سروش بن جاتی ہے۔ یہ نوائے سروش آپ کو اس مجموعے میں قدم قدم پر سنائی دے گی۔ بشرطیکہ سننے والے کان ہوں اور محسوس کرنے والا دل۔
اگرچہ آپ کا سارا کلام ہی شعری اور جذباتی حسّیت کے لحاظ سے ایک اکائی کا حکم رکھتا ہے اور کہیں بھی اس منفرد، پاکیزہ اور ارفع سطح سےنیچے نہیں گرنے پاتا۔ لیکن جگہ جگہ ایسے مقام بھی آتے ہیں جو ماؤنٹ ایورسٹ کی طرح سے دور سے الگ نظر آتے ہیں۔ خصوصاً آپ نے ریختے میں جو غزلیں کہی ہیں۔ اپنا جواب آپ ہیں۔ اگر مثالیں دینی شروع کروں تو ڈرتا ہوں کہیںیہ تعارف بہت طویل نہ ہو جائے۔ نیز باقی ماندہ اشعار سے ناانصافی کا مرتکب نہ ٹھہروں اس لئے چند ایک اشعار کو نمونے کے طور پر درج کرتا ہوں۔ آگے سارا سمندر پڑا ہے غوطہ زن ہوں اور موتیوں سے اپنے اپنے دامن بھرلیں۔ فرماتی ہیں:
نہ کُوک کوئلیا کُو کُو کُو تُو آگ لگا اس ساون کو
من میرا بیکل بیکل ہے ، نیناں ڈھونڈیں من بھاون کو
جب تک بھادوں کی جھڑی رہی مَیں بیچ جھروکے کھڑی رہی
برکھا بھی جھر جھربرسے ہے مجھ بِرہن کے کلپاون کو
جا دَوڑ لپٹ جا سینے سے من موہن سامنے بیٹھا ہے
پگلی ہے ساری عمر پڑی گھبراون کو، شرماون کو
ان اُونچے پِیڑھے والوں کا اُس وقت تماشا کیا ہو گا
تقدیر کا ڈمرو باجے گا جب تِگنی ناچ نچاون کو
سَر بھاری ، پِنڈا دُکھتا ہے ، من پھوڑا ، نظریں گھائل ہیں
وہ کومل ہاتھ ہی چاہیئے ہیں اِن زخموں کے سہلاون کو
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
حضرت امیر خسروؒ کی زمین میں ایک لمبی کیف آگیں غزل ہے۔ چند شعر سنئے:
خسرو میاں کا قول یہ جی کو مرے خوش آ گیا
تجھ دوستی بسیار ہے اک شب ملو تو آئے کر
اوروں کا ہر عیب و ہنر ہر دم رہا پیش نظر
شیشہ جو دیکھا غور کر نظریں جھکیں شرمائے کر
اس سے ملاقاتاں ہوئیں نہ دید نہ باتاں ہوئیں
پر کچھ تو ڈھارس ہو گئی اس کی گلی میں جائے کر
کیا ہے رقیباں جو مری راہوں میں کانٹے بو دیئے
میری جزا تو مل گئی اُس یار کا کہلائے کر
چھوٹا سا یہ فتنہ مجھے پل کو بھی دم لینے نہ دے
پہلو سے نکلا جائے ہے زِچ آ رہی بہلائے کر
پھر اور بہت سی غزلیں ہیں۔ جو ایسی تازہ کربلاؤں کے پس منظر میں کہی گئی ہیں۔ جہاں جسم مجبور ہیں۔ لیکن دل بدستور آزاد ہیں۔ مشتے نمونہ از خروارے۔
اے تخت نشینو! ہم تو اُنہی آنکھوں کا اشارہ دیکھتے ہیں
خوش فہم نہ ہو کہ چلتے ہیں فرمان تمہارے ربوہ میں
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
وقت نے کیسے چٹانوں میں دراڑیں ڈال دیں
رو دیا وہ بھی کہ جو پہلے کبھی رویا نہ تھا
پیار کے اک بول نے آنکھوں میں ساون بھر دیئے
اس طرح تو ٹوٹ کے بادل کبھی برسا نہ تھا
جانے کیوں دل سے مرے اس کی کسک جاتی نہیں
بات گو چھوٹی سی تھی اور وار بھی گہرا نہ تھا
موسمِ گُل میں تھا جس ٹہنی پہ پھولوں کا حصار
جب خزاں آئی تو اس پہ ایک بھی پتّا نہ تھا
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
روح کے روابط میں اس طرح بھی ہوتا ہے
فرقتیں تو ہوتی ہیں فاصلہ نہیں ہوتا
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
وہ تو دَورِ ہجر ہی صدیوں کی کلفت دے گیا
شورشِ اعداء سے تو ہم لوگ رنجیدہ نہ تھے
کیا ضروری تھا کہ حرفِ مدّعا ہوتا ادا
میری جاں تم سے مِرے حالات پوشیدہ نہ تھے
پھر اپنے رب کے حضور دست بدعا ہیں:
اَب جلد آکہ سنگِ عداوت کی زد میں ہے
میری اذان، میری عبادت، مری نماز
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
میری آنکھوںمیں بند ہے برسات
میرے دل میں الاؤ جلتے ہیں
اور پھر بزعم خود خدا بننے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں:
کوئی نمرود ہو ، شداّد کہ فرعون کوئی
اب بصد جاہ و حشم کوئی کہاں ہے سوچو
اب تو قصّوں میں ہی بس انکا نشاںہے سوچو
تم کہ اس دَور کے فرعون بنے بیٹھے ہو
سوچ لو خوب کہ موسیٰ بھی اسی دور میں ہے
آج کے دن تو فقط اتنا ہی کہنا ہے مجھے
بات لمبی ہو رہی ہے۔ دامنِ دل می کشد کہ جا اینجاست
نظموں تک پہنچتے پہنچتے دیر ہو گئی۔ ایک نظم جو اول تا آخر ایک اکائی ہے۔ اگرچہ لباس غزل کا ہے۔ لیکن اس کا انتخاب ممکن نہیں۔ سترہ شعر ہیں کاش ہمارے بڑے اور ہمارے چھوٹے اسے ازبر کر سکیں۔اس نظم کا عنوان ہے۔
خدا کرے
خدا کرے کہ صحبتِ امام بھی ہمیں ملے
یہ نعمتِ خلافتِ مدام بھی ہمیں ملے
خدا کرے کہ عشقِ مصطفےٰؐ ہمارے دل میں ہو
رضائے حق کی مسندِ کرام بھی ہمیں ملے
حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے چالیس دن کے چِلّے کے ثمر پر مثنوی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اور بزرگ خواتین کی وفات پر منظوم دعائیں ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے فرقت کے لمحات کا ذکر ہے۔
آقا ترے بغیر یہ گلشن اداس ہے
سب کا سب ایک ہی رنگ اور تاثیر میں ڈوبا ہوا کلام ہے۔
ایک ترکیب بند مسدس ہے۔ جس کے نو بند ہیں۔ چند بند سنئے:
انسانی لغزشوں سے میں ماورا نہیں ہوں
ماحول سے علیحدہ ربُ الوریٰ نہیں ہوں
لیکن میں تجھ سے غافل میرے خدا نہیں ہوں
میں بے عمل ہوں بےشک پر بے وفا نہیں ہوں
نظریں بھٹک رہی ہیںپر دل میں تُو مکیں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں ا ب نہیں ہے
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
میں مانتی ہوں میرا خالی ہے آبگینہ
نہ آہِ صبح گاہی نہ زاریئ شبینہ
تسلیم کا سلیقہ نہ پیار کا قرینہ
پر میری جان میرا شق ہو رہا ہے سینہ
اب اس میں تابِ فکر و رنج و محن نہیں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
ذوقِ دعا کو میرے رنگِ ثبات دے دے
جامِ لِقا پلا دے، آبِ حیات دے دے
یہ تو نہیں میں کہتی کُل کائنات دے دے
فرقت کی تلخیوں سے بس تُو نجات دے دے
نظریں فلک کی جانب ہیں خاک پر جبیں ہے
جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے
پھر سات بند کی ایک دعا ہے جو ‘زمانے کے مالک’ سے کی گئی ہے۔
الٰہی دعاؤں کی توفیق دے دے، کہ سجدوں میں یہ گِڑگڑانے کے دن ہیں
ہمارے قدم ڈگمگانے نہ پائیں، یہ ایمان کے آزمانے کے دن ہیں
خُدا وندا بندے خُدا بن گئے ہیں، یہی تیری قدرت دکھانے کے دن ہیں
بہت ہو چکی اے زمانے کے مالک، بس اب اپنے لطف و کرم کی نظر کر
جو تُو نے اُتارا تھا اس دین سے اب، جُدا اک نرالا نصاب آگیا ہے
عمل جو بھی احکام پہ کر رہا ہے، وہی شخص زیرِ عتاب آگیا ہے
ترے نام پر ہو رہی ہیں وہ باتیں، کہ انسانیت کو حجاب آگیا ہے
بہت ہو چکی اے زمانے کے مالک، بس اب اپنے لطف و کرم کی نظر کر
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی علالت کے سلسلے میں دعائیہ نظم ہے۔ دیگر بزرگوں کی وفات پر دعائیہ نظمیں ہیں۔ اپنے والد گرامی قدر حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمدؒ پر دو نظمیں ہیں۔ ایک آزاد نظم ہے۔ ‘یہ میرا باپ ہے’ اور دوسری وفات کے بعد ‘مرے ا بّا’۔
عزم اور حوصلے میں تو یہ فردہے
آ ہنی مرد ہے
یہ مرا باپ ہے
کوئی کرتا ہے کیا؟
یہ نہیں جستجو
کوئی کہتا ہے کیا؟
دل پہ لیتا نہیں
محوِ ماضی نہیں
حال میں مست ہے
بود کا غم نہیں
قائلِ است ہے
فکرِ فردا نہ فکرِ کم و بیش ہے
مردِ درویش ہے
یہ مرا باپ ہے
پھر ایک نظم ‘لمحہ’ ہے
وہ ایک لمحہ نہ عمر بھر میں کبھی فراموش کر سکوں گی
وہ ایک لمحہ تو زندگی پر محیط سا ہو کے رہ گیا ہے۔
یہ نظم آزاد ہے اور اپنی جگہ خوب ہے۔
پھر ایک طویل نظم ہے۔ جس کا عنوان ہے ‘گھر’۔ یہ بھی پڑھنے کی چیز ہے پڑھیئے اور اپنے گھر میں اسے آویزاں کیجئے۔
آخر میں میری دعا ہے کہ دعائیں قبول کرنے والا مالک اور قادر خدا آپ کی ساری دعائیں قبول کرے اور جزائے خیر سے نوازے ایک بار پھر اعتراف کرتا ہوں کہ ہم بے زبانوں اور گونگوں کے دکھوں کو انہوں نے زبان دی اور لہجہ عطا کیا۔
اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ وہ آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ لمبی فعّال اور مقبول زندگی عطا فرماوے۔ اور وہ ہمارے دلوں کی ترجمانی کرتی رہیں۔ آمین۔
والسلام
خاکسار
محمد علی چوہدری مضطر عارفی

انتساب

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ13۔18

انتساب

میں نام کس کے کروں مُعَنْوَنْ
میں اس کا کیا انتساب لکھوں!
یہ سوچتی ہوں رقم کروں کیا
اگر میں کوئی کتاب لکھوں!
ہیں کتنے پیارے، ہیں کتنے رشتے کہ جن کی بے پایاں چاہتیں ہیں
ہے غمگساروں کی غمگساری تو دوستوں کی رفاقتیں ہیں
ہیں کتنے ہی مجھ سے چھوٹے ایسے کہ جن کے دل میں عقیدتیں ہیں
ہیں بے ریا جن کے صاف سینے، محبتیں ہی محبتیں ہیں
وہ جن کی آنکھوں سے قطرہ قطرہ مئے محبت ٹپک رہی ہے
وہ جن کے چہروں سے روشنی سی خلوصِ دل کی جھلک رہی ہے
وہ جن کے شفاف، پاک جذبے مرے بھی جذے جگا رہے ہیں
مجھے بھی جینا سکھا رہے ہیں
یہ پھول چہرے گلاب چہرے کہ جن میں کتنی تراوتیں ہیں
یہ پاک سینے کہ جن میں کیسی خلوصِ دل کی حلاوتیں ہیں
کدورتیں نہ کثافتیں ہیں صداقتیں ہی صداقتیں ہیں
ہیں کتنے میرے بڑے کہ سینوں میں جن کے بے پایاں شفقتیں ہیں
وہ مجھ پہ جن کی عنایتیں بے پناہ پیہم نوازشیں ہیں
دعاؤں کے جو حصار اُنکی مرا احاطہ کئے ہوئے ہیں
تو خیر خواہی کی اُن کے جذبے مجھے تحفظ دیئے ہوئے ہیں
یہی تو ہیں کہ دعائیں جن کی ہر امتحاں سے نکالتی ہیں
ہر ایک دکھ سے بچا رہی ہیں ہر اک قدم پہ سنبھالتی ہیں
مَیں نام کس کے کروں مُعَنْوَنْ
مَیں اس کا کیا انتساب لکھوں!
اگر مَیں کوئی کتاب لکھوں!
یہ میرے چاروں طرف عجب سی بساطِ ہستی بچھی ہوئی ہے
کہیں ہے شادی —— کہیں ہے ماتم
کہیں خوشی ہے —— کہیں پہ ہے غم
کہیں ہے شاہ اور کہیں پیادہ
کسی کے ہے سامنے ہی منزل
کسی کی آنکھوں سے گُم ہے جادہ
کسی نے جیتی ہے ساری بازی
کسی کو یاں مات ہو رہی ہے
کسی کے گھر نور کے اُجالے
کسی کے ہاں رات ہو رہی ہے
کسی کے سینے میں ناگ نفرت کا سر اٹھائے کھڑا ہوا ہے
اُسی کی شہ رگ کو ڈس رہا ہے
ہے زہر ایسا جلن سے جس کی خود اُس کا سینہ تپک رہا ہے
الاؤ بن کے دہک رہا ہے
مَیں برملا کہہ دوں ساری باتیں
کہ سب ورائے حجاب لکھوں!
اگر مَیں کوئی کتاب لکھوں!
ہے ایک دنیا مری بھی سوچوں کی ایک جنت نظیر دنیا
محبتوں کا جہان آباد اس میں دیکھو —— یہاں پہ لوگو
نہ نفرتیں نہ عداوتیں ہیں —— نہ بغض ہے نہ کدورتیں ہیں
نہ بدگمانی نہ بے یقینی —— نہ عیب جوئی نہ نکتہ چینی
نہ اجنبیت نہ ناشناسی —— نہ بے وفائی نہ ناسپاسی
نہ بے نوائی نہ نارسائی —— نہ خود پرستی نہ خود نمائی
نہ چیرہ دستوں کی چیرہ دستی —— نہ خون ارزاں نہ جان سستی
حسد نہ رنجش نہ بغض و کینہ —— ہے آئینہ سا ہر ایک سینہ
نہ کورچشمی نہ کم نگاہی —— نہ راہ گم نہ بھٹکتے راہی
نہ بدگمانی کی شدتیں ہیں نہ تلخیوں کی حکایتیں ہیں
حقیقتوں کو بیاں کروں میں
کہ اپنی آنکھوں کے خواب لکھوں محبتوں کے نصاب لکھوں
اگر مَیں کوئی کتاب لکھوں!
وہ میرا مالک وہ میرا مولیٰ
کہ جس کے فضل و کرم کا سر پہ مرے ہمیشہ رہا ہے سایہ
میں جب کبھی پھنس گئی ہوں دلدل میں اُس نے اس سے مجھے نکالا
کبھی جو کھائی ہے میں نے ٹھوکر تو اُس نے بڑھ کے مجھے سنبھالا
وہ عیب پوش و غفور و ستار میرا مالک
مری خطاؤں کی پردہ پوشی اگر نہ کرتا
تو اہل دنیا تو مجھ سے ایسا سلوک کرتے
کہ ِاس جہاں میں مرا ٹھکانہ کہیں نہ ہوتا
کرم اُسی کا ہے سر اٹھا کے جو جی رہی ہوں
میں سوچتی ہوں
اذیتوں کے مقابلہ میں
سکینتوں کے حساب لکھوں
ورق ورق، باب باب لکھوں
اگر میں کوئی کتاب لکھوں
مَیں نام کس کے کروں مُعَنْوَنْ!
مَیں اس کا کیا انتساب لکھوں!
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

1۔ ہر شے میں وہی ہے جلوہ نما

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ19۔21

ہر شے میں وہی ہے جلوہ نما

1981ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
میں تمہیں ایک مصرع طرح دیتا ہوں اس پر نظم کہو
اور وہ مصرع یہ تھا۔
ہے صبر و رضا کا مطلب کیا
بس لا الہ الا اللّٰہ
ہے صبرو رضا کا مطلب کیا
بس لا الہ الا اللّٰہ
کرتے ہیں اُسی کی حمدو ثنا
یہ شمس و قمر یہ ارض و سما
گلشن، وادی، صحراء دریا
ہر ایک اُسی کا مدح سرا
جو کچھ بھی مِلا اُس سے ہی مِلا
حق اس کا بھلا ہو کیسے ادا
ہر چیز سے بڑھ کر اس کی رضا
ہے صبر و رضا کا مطلب کیا
بس لا الہ الا اللّٰہ
وہ حُسنِ مجسم نورِ ازل
وہ زندہ حقیقت ٹھوس اٹل
ہر شے کی حقیقت پَل دو پَل
آیا جو یہاں وہ چَل سو چَل
باقی ہے اگر تو نامِ خدا
بس لا الہ الا اللّٰہ
کانوں کی سماعت لَب کی نوا
ہاتھوں کی سکت قدموں کی بناء
آنکھوں کی صفاء ذہنوں کی جلا
ادراک کی قوت فہم و ذکاء
یہ حُسنِ طلب یہ ذوقِ دعا
یہ عرضِ تمنا، طرزِ ادا
ہر شے ہے اُسی کی جود و عطا
وہ رحمتِ کُل مَیں صرف خطا
ہر دَرد کا درماں رُوحِ شفاء
کیا؟ لا الہ الا اللّٰہ
پھولوں کی مہک بُلبل کی نوا
سُورج کی کرن تاروں کی ضیاء
قریہ قریہ، کوچہ کوچہ
جنگل جنگل، صحرا صحرا
وادی وادی، دریا دریا
ہر شے میں وہی ہے جلوہ نما
بس لا الہ الا اللّٰہ
ملجاء بھی وہی ماویٰ بھی وہی
آقا بھی وہی مولیٰ بھی وہی
رحمن وہی اَرحم بھی وہی
نعمت بھی وہی منعم بھی وہی
عادِل بھی وہی حاکم بھی وہی
رازِق بھی وہی قاسم بھی وہی
وارِث بھی وہی رافع بھی وہی
باسِط بھی وہی واسع بھی وہی
اوّل بھی وہی آخر بھی وہی
باطن بھی وہی ظاہر بھی وہی
نیچے بھی وہی اُوپر بھی وہی
اندر بھی وہی باہر بھی وہی
منزل بھی وہی رہبر بھی وہی
مرکز بھی وہی محور بھی وہی
غالب بھی وہی قادِر بھی وہی
اعلیٰ بھی وہی اکبر بھی وہی
قدوس وہی بے عیب وہی
معبود وہی لاریب وہی
کثرت بھی وہی واحد بھی وہی
نگران وہی شاہد بھی وہی
ربِّ ارض و افلاک وہی
معبودِ شہہِ لولاکؐ وہی
قیوم وہی ہوشیار وہی
غم آئے تو ہے غمخوار وہی
غفار وہی ستار وہی
ہم جیسوں کا پردہ دار وہی
پھر اور کہوں کیا اس کے سوا
بس لا الہ الا اللّٰہ
یہ نظم جلسہ سالانہ ١٩٨١ء پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے خطاب سے قبل محترم صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب نے پڑھ کر سنائی۔
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

2۔ نعت

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ22۔28

نعت

وہ جو احمدؐ بھی ہے اور محمدؐ بھی ہے
وہ مؤیَّد بھی ہے اور مؤیِّد بھی ہے
وہ جو واحد نہیں ہے پہ واحد بھی ہے
اک اُسی کو تو حاصل ہوا یہ مقام
اُس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
سوچا جب وجہِ تخلیق دنیا ہے کیا؟
عرش سے تب ہی آنے لگی یہ نِدا
مصطفی، مصطفی، مصطفی، مصطفی
وہ ہے خیرالبشر وہ ہے خیرالانام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
قطبِ روحانیت، ذاتِ قبلہ نما
ہادی و پیشوا، رہبر و رہنما
مرشد و مقتدا، مجبتیٰ مصطفی
حق کا پیارا نبی اور چنیدہ امام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
اس کی سیرت حسیں ، اس کی صورت حسیں
کوئی اس سا نہ تھا ، کوئی اس سا نہیں
اس کا ہر قول ہر فعل ہے دلنشیں
خوش وضع ، خوش ادا ، خوش نوا ، خوش کلام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
وہ صدوق و امین و رؤف و رحیم
وہ نذیر و بشیر و رسولِ کریم
ذات اس کی ہے تفسیر خُلقٍ عظیم
اس کے اخلاق کامل ہیں خلقت ہے تام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
رحمتِ تام بہرِ صغیر و کبیر
وہ مہِ ضوفشاں اور مہرِ منیر
بحرِ ظلمات میں روشنی کا سفیر
اس کے دم سے ہوا روشنی کا قیام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
وہ محبت کا نادی محبت اتم
وہ مروت کا پیکر وہ رحمت اتم
عفو اور درگذر اور اخوت اتم
ہر خوشی کا وہ منبع مسرت تمام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
مرد کے بس میں تھی عورتوں کی حیات
اس نے ہر ظلم سے ان کو دی ہے نجات
اس نے عورت کی تکریم کی کر کے بات
کہہ دیا میں ہوں رحم و کرم کا امام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
زندہ رہنے کا عورت کو حق دے دیا
اس کے اُلجھے مقدر کو سلجھا دیا
خُلد کو اس کے قدموں تلے کر دیا
اس نے عورت کو بخشا نمایاں مقام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
درس ضبط و تحمّل کا یوں بھی دیا
وہ کہ جو آپ کی جان لینے چلا
ایسے دشمن سے بھی درگذر کر دیا
ہاتھ میں گرچہ تلوار تھی بے نیام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
اہلِ ثروت کو ثروت کا حق دے دیا
عَبد کو بھی قیادت کا حق دے دیا
ہر کسی کو شریعت کا حق دے دیا
وہ سکونِ خواص و قرارِ عوام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
ہے صفاتِ الٰہی کا مظہر وہی
آئندہ سے گذشتہ سے برتر وہی
نوعِ انسان کا ہے مقدّر وہی
ختم اس پر نبوت شریعت تمام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
وہ محمدؐ ہے احمدؐ ہے محمود ہے
وہ شہادت ہے شاہد ہے مشہود ہے
وہ جو مقصد ہے قاصد ہے مقصود ہے
اس کی خاطر ہوا اس جہاں کا قیام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
ہر حسیں خُلق اُس میں ہی موجود ہے
وہ جو روزِ ازل سے ہی موعود ہے
ماسوا اس کے ہر راہ مسدود ہے
میری ہر سانس کا اس کو پہنچے سلام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
کون کہتا ہے زندہ ہے عیسیٰ نبی
جس کی تعلیم زندہ ہو ، زندہ وہی
جس کا ہر قول تازہ ہے سنّت ہری
اس کو حاصل ہوئی ہے بقائے دوام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
میرے آقا کی زندہ شریعت بھی ہے
اس کا اُسوہ بھی ہے اس کی سیرت بھی ہے
اس کے اقوال بھی اس کی سنّت بھی ہے
اس کے سجدہ و قعدہ ، رکوع و قیام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
اس کی عاشق ہے خود ربِّ اکبر کی ذات
اُس کی زیرنگیں ہے یہ کُل کائنات
اُس نے ثابت کیا وصل کی ایک رات
اُس کے پاؤں کی ہے دھول یہ نیلی فام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
تھے کبھی جبرئیلِ امیں رازداں
اور کبھی یونہی آپس میں سرگوشیاں
جلوتیں اس کی ہر طور خلوت نشاں
اس کی صبحیں حسیں اس کی تابندہ شام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
اس کے قدموں تلے یہ خدائی ہوئی
عرش تک اِک اُسی کی رسائی ہوئی
کُل فضا نور میں تھی نہائی ہوئی
تھے خدا اور حبیبِ خدا ہم کلام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
حشر تک چشمہ جاری ہے فیضان کا
وا ہے در آج بھی جذب و ایقان کا
کیا نبی اور ہے کوئی اس شان کا؟
ہو مسیح زماں جس نبی کا غلام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
وہ معارف کا اک قلزمِ بیکراں
فخر انسانیت رشکِ قدّوسیاں
اس کی توصیف ہو کس طرح سے بیاں
ہے زباں شرمسار اور نادم کلام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

3۔ قصیدہ ۔ در شانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ29۔33

قصیدہ ۔ در شانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

اے مسیحائے زمن عصرِ رواں کے چارہ گر
مہدیء آخر زماں روحانیت کے راہبر
اے جری اللہ ، بروز انبیاء ، عالی گُہر
ہوں ہزاروں رحمتیں تیری مقدس ذات پر
تجھ کو پایا تو خدا کی معرفت حاصل ہوئی
تجھ کو دیکھا تو عجب شانِ خدا آئی نظر
تو نے سمجھایا کہ کیا ہے رُوحِ دینِ مصطفےٰؐ
تو نے بتلایا کہ کیا ہے عظمتِ خیرالبشرؐ
تو نے فرمایا کہ ”ہر نیکی کی جڑ ہے اتقاء
رنگِ تقویٰ سے کوئی رنگت نہیں ہے خوب تر
وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے
تو نے پھر ظاہر کئے دنیا پہ سب لعل و گہر
دیکھ سکتا ہی نہ تھا تو ضعفِ دین مصطفیؐ
فکر میں اس کی رہے کٹتے ترے شام و سحر
تیرے مولا کا بھی تھا تجھ سے محبت کا سلوک
رحمتیں ہی رحمتیں تھیں تیرے ہر اک گام پر
آسماں تیرے لئے اس نے بنایا اک گواہ
تیری ہی خاطر تھے گہنائے گئے شمس و قمر
زلزلوں نے بھی صداقت کی تری تصدیق کی
ایک عالم ہو گیا تیرے لئے زیر و زبر
آئی یہ ”صوت السّماء جاء المسیح جاء المسیح
اور زمیں بھی دے رہی ہے تیرے آنے کی خبر
اس تواتر سے ہوا انوار کا تجھ پہ نزول
جگمگا اُٹھے ہیں جن سے جان و دل کے بام و در
تیرے مولیٰ نے ترے دل کو عجب بخشا سرور
دے کے تیرے گھر میں آنے والی خوشیوں کی خبر
دی تجھے ربّ الورٰی نے وہ نویدِ جانفزا
سینکڑوں برسوں سے یہ دنیا تھی جس کی منتظر
تجھ کو قدرت نے دیا خود ”اپنی رحمت کا نشاں
صاحب عزو وقار و شوکت و فتح و ظفر
حسن و احساں میں وہ تیرا عکس تیری ہی نظیر
ذریّت تیری ، دعا تیری ، ترا لختِ جگر
اور پھر وہ بھی جسے نورِ بصیرت تھا ملا
تیرے آنگن میں ہی چمکا ہے وہ ”نبیوں کا قمر
بادشاہ آیا” کے جو الہام کی تفسیر تھا
اک فقیرانہ صفت آیا بہ اندازِ دگر
تین کو پھر چار کرنے کی بشارت بھی ملی
کھینچ لایا تیرے سلطاں کو ترا سوزِ جگر
اک طرف بنتِ مبارک ، اک طرف دختِ کرام
تیرے گلشن میں لگے ہیں کس قدر شیریں ثمر
مُردہ روحوں میں نئی اک روح تو نے ڈال دی
یہ ترا احسان کیا کم ہے ہماری ذات پر
پھر زمیں کی آسمانوں پر پذیرائی ہوئی
پستیوں کو رفعتیں حاصل ہوئیں بارِ دگر
جو بڑھا تیرے مٹانے کو وہ مٹ کر رہ گیا
فیصلہ اُس کی ہلاکت کا ہوا افلاک پر
اُس طرف اِیذاء رسانی کی مسلسل کوششیں
اور عجب صبرو تحّمل کے تھے نظّارے اِدھر
نیک روحیں آ رہی ہیں اِس طرف پروانہ وار
لاکھ چلاّتے رہیں اعدائے بدگو بدنظر
کر رہے ہیں آج وہ نیکی بدی کے فیصلے
خود جنہیں مطلق نہیں ہے امتیاز خیرو شر
گر نہیں پہچانتے تجھ کو تو کیا تیرا قصور
کام کرتی ہے بھلا کب کور چشموں کی نظر
اہلِ بینش پر کھلے ہیں حسن کے جلوے ترے
ہے مگر محروم تیری دید سے ہر بے بصر
بدزبانی ، گالیاں ، ایذا رسانی ، اِفترا
ایسی باتیں اور محمدؐ مصطفی کے نام پر؟
کوئی سمجھاتا عدو کو اُس کی طاقت کو بھی دیکھ
اپنی طاقت کا ہی اے غافل تو اندازہ نہ کر
ہے دعا ہم کو بھی توفیق عبادت مل سکے
ہاتھ اُٹھے ہوں دعا کو سجدہ گاہوں میں ہوں سَر
کاش وارث میں بھی ٹھہروں اُن دعاؤں کی ہمیش
آپ نے اولاد کے حق میں جو کی ہیں عمر بھر
میرے مولیٰ خادمانِ رجلِ فارس ، ہم بھی ہیں
نور سے تیرے صدا روشن رہیں اپنے بھی گھر
قدرتِ ثانی کے نظّارے سدا کرتے رہیں
کجروی پیدا نہ ہو چھوٹے نہ سیدھی رہگزر
نعمتیں دنیا و دیں کی فیض سے ان کے ملیں
ہوں ہزاروں رحمتیں یارب شہہِ لَولاک پر
حیف جز اشکِ ندامت کچھ نہیں ہے میرے پاس
”میرے آقا پیش ہیں یہ حاصلِ شام و سحر”
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

4۔ ترانہ

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ34۔36

ترانہ

اک جری اللہ نے لہرایا عَلم اسلام کا
بج رہا ہے ہر طرف ڈنکا اب اس کے نام کا
مَردِ فارس اور احیائے شریعت زندہ باد
احمدیت، احمدیت، احمدیت زندہ باد
زندہ باد و زندہ باد و زندہ و پائیندہ باد
خادم دینِ متین و عاشقِ خیرالانامؐ
وہ مسیح و مہدئ دوراں محمدؐ کا غلام
چاند اور سورج نے دی جس کی شہادت زندہ باد
احمدیت، احمدیت، احمدیت زندہ باد
زندہ باد و زندہ باد و زندہ و پائیندہ باد
کہہ رہی ہیں چار سو پھیلی شعائیں نورکی
لو شبیہہِ پاک دیکھو وقت کے مامور کی
مَاہِ خوباں، پاک سیرت، مَاہ طلعت زندہ باد
احمدیت، احمدیت، احمدیت زندہ باد
زندہ باد و زندہ باد و زندہ و پائیندہ باد
دیکھ اب بھی وقت ہے کر یو نہ پھر چیخ و پکار
ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے رُوبۂ زار و نزار
مژدہ فتح و ظفر، تائید و نصرت زندہ باد
احمدیت، احمدیت، احمدیت زندہ باد
زندہ باد و زندہ باد و زندہ و پائیندہ باد
طائرانِ خوشنوا ہر سمت سے آنے لگے
گلشنِ احمد میں ہر سو پھول مُسکانے لگے
سایہ فضلِ خدا و اَبر رحمت زندہ باد
احمدیت، احمدیت، احمدیت زندہ باد
زندہ باد و زندہ باد و زندہ و پائیندہ باد
ہاتھ تھامے ہم کسی کا سوئے منزل ہیں رواں
ہے خدا خود ساتھ اُس کے جو ہے میرِ کارواں
چشمئہ فیضان و برکاتِ خلافت زندہ باد
احمدیت، احمدیت، احمدیت زندہ باد
زندہ باد و زندہ باد و زندہ و پائیندہ باد
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

5۔ دیکھو ذرا خدا را

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ37۔39

دیکھو ذرا خدا را

جس کے تھے منتظر وہ شہکار آ گیا ہے
وہ گلعزار رشکِ گلزار آ گیا ہے
دینِ محمدی کا غمخوار آ گیا ہے
وہ میرِ کاروانِ ابرار آ گیا ہے
نظریں اُٹھا کے اپنی دیکھو ذرا خدارا
کہ چاند اور سورج کرتے ہیں کیا اشارا
مہدی کو میرے جا کے میرا سلام کہنا
میری محبتوں کا اس کو پیام کہنا
قولِ نبیؐ ہے یہ تم باصدقِ تام کہنا
لبّیک یا مسیح و مہدی مدام کہنا
نظریں اُٹھا کے اپنی دیکھو ذرا خدارا
کہ چاند اور سورج کرتے ہیں کیا اشارا
کیا زلزلوں سے سوچو مچتی رہی تباہی
طاعوں بھی سر اُٹھا کے دیتا رہا گواہی
جکڑے ہوئے دلوں کو ہیں منکر و نواہی
تیرہ ہوئی ہیں راہیں، بھٹکے ہوئے ہیں راہی
نظریں اُٹھا کے اپنی دیکھو ذرا خدارا
کہ چاند اور سورج کرتے ہیں کیا اشارا
دھرتی سمٹ رہی ہے ، کہسار کٹ رہے ہیں
سینے سمندروں کے ہرآن پھٹ رہے ہیں
گنجینہ ہائے علم و عرفان بٹ رہے ہیں
انساں کے سامنے سے پردے سے ہٹ رہے ہیں
نظریں اُٹھا کے اپنی دیکھو ذرا خدارا
کہ چاند اور سورج کرتے ہیں کیا اشارا
زندہ خدا کے میرے زندہ نشان دیکھو
ہر ہر قدم پہ اُس کے جلووں کی شان دیکھو
یاں اِلتفات و فضل ربِّ جہان دیکھو
اور پورا ہوتے قولِ وسّع مکان دیکھو
نظریں اُٹھا کے اپنی دیکھو ذرا خدارا
کہ چاند اور سورج کرتے ہیں کیا اشارا
بادِصبا نے آ کے پیاری سی لَے سنا دی
پھر روشنی کی لہروں نے شکل بھی دِکھا دی
جو بھی خلش تھی دل میں جس کے وہ سب مٹا دی
اور چار دانگِ عالم میں ہو گئی منادی
نظریں اُٹھا کے اپنی دیکھو ذرا خدارا
کہ چاند اور سورج کرتے ہیں کیا اشارا
سوچو وہ رحمتوں کا حقدار کس لئے ہے؟
ہے مفتری تو اس سے یہ پیار کس لئے ہے؟
تکفیر پہ تمہیں پھر اصرار کس لئے ہے؟
تکذیب کس لئے ہے، انکار کس لئے ہے؟
نظریں اُٹھا کے اپنی دیکھو ذرا خدارا
کہ چاند اور سورج کرتے ہیں کیا اشارا
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

6۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھ کر

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ40۔43

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھ کر

میرے محبوب کیا کہوں تجھ سے
تیری تصویر سامنے آئی
میں نے گھبرا کے پھیر لیں نظریں
یہ نہیں ہے کہ شوقِ دید نہیں
تجھ سے الفت ہے تیری چاہ بھی ہے
خواہش دید ِ بے پناہ بھی ہے
کاش تو خواب میں ہی آ جائے
کاش یوں تیری دید ہو جائے
کاش دو بول ہی محبت کے
لبِ جاناں سے میں بھی سُن پاؤں
تیری تصویر دیکھ کر جو میں
تجھ سے نظریں چرائے پھرتی ہوں
تیری کچھ کہتی بولتی آنکھیں
میرے محبوب مجھ سے کہتی ہیں
کیا یہ تم ہو؟
تمہیں ہؤا کیا ہے؟
کیا یہ سب میں نے تم سے چاہا تھا؟
کیا زبانی تھا دعویٰ ء اُلفت؟
تیری آنکھیں سوال کرتی ہیں
کوئی کوشش نہ وصل کی تدبیر
عزمِ کوئے نگار بھی تو نہیں
اور یہ تیرا معبدِ دل بھی
ساحلِ جاں کا سومناتِ جدید
نصب ہیں جس میں خواہشات کے بُت
کب گرے گا؟ کبھی یہ سوچا ہے؟
میرے انداز میری تصویریں
میرے اقوال ، میری تحریریں
آسمانی صحیفہ حکمت
چشمہ معرفت وہ نورِ ازل
حسن صورت کے حُسنِ سیرت کے
دلکشا، دلنشیں، حسیں انداز
کیا کبھی ان کی سمت بھی دیکھا
تم کہ اس مادیت کی دلد ل میں
سَر بَسر غرق ہوتی جاتی ہو
پر لبوں پر ہیں دعویٰ ہائے غلط
پیار ہے، عشق ہے، عقیدت ہے
کیا یہ آداب ہیں محبت کے؟
کیا یہ تسلیم کا قرینہ ہے؟
وائے افسوس ایسے جینے پر
کیا یہ جینا بھی کوئی جینا ہے!
تیری کچھ کہتی بولتی آنکھیں
میرے محبوب مجھ سے پوچھتی ہیں
تب میں نظریں چرائے پھرتی ہوں
اپنی بے مائیگی کا ہے احساس
اپنے اعمال پہ ندامت ہے
تجھ کو پانے کی دل میںچاہ بھی ہے
سوز سینے میں لب پہ آہ بھی ہے
عرصہئ کائنات میں لیکن
ہر قدم دعوتِ گناہ بھی ہے
جس طرف دیکھئے ہیں پھیلے ہوئے
کتنے سنگین دام ہائے فریب
دل کو جو اپنی سمت کھینچتے ہیں
میری کوتاہیوں کا دخل بھی ہے
اور ماحول کا تقاضا بھی
ہوں تو انساں بھٹک ہی جاتی ہوں
تیرے مسجود کی قسم ہے مگر
سَر اُسی دَر پہ ہی جُھکاتی ہوں
میرے محبوب ہے سبب یہ ہی
جو میں نظریں چرائے پھرتی ہوں
پر مجھے دل پہ اختیار نہیں
تیری تصویر تیرے چہرے کو
میری جاںبار بار دیکھتی ہوں
ہر گُلِ مشکبار سے بڑھ کر
تیرے رُخ پر نکھار دیکھتی ہوں
میرے بس میں دل و نگاہ نہیں
ذوق وارفتگی گناہ نہیں
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

7۔ یادِ رفتگاں

چل رہی ہے رِیل سی میری نظر کے سامنے
ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ47۔48

یادِ رفتگاں

چل رہی ہے رِیل سی میری نظر کے سامنے
رفتگاں کی بھیڑ ہے یادوں کے گھر کے سامنے
ذہن میں میرے چمکتے ہَیں وُہ چہرے آج بھی
ماند نہ ہوتے تھے جو شمس و قمر کے سامنے
پیکرِ ضبط و تحمُّل، صبر و ایثار و رضا
ایستادہ گردشِ شام و سحر کے سامنے
جوہری کی سی پرکھ، لعلِ بدخشاں کی سی آب
مِثلِ کوہِ نور تھے لعل و گہر کے سامنے
ایک اک کرکے گِرے ہیں کیسے چھتناور شجر
کھیل کیا کھیلے گئے برگ و ثمر کے سامنے
باعثِ تسکیں رہا اُن کی دعاؤں کا حصار
کتنی فکریں گھومتی ہیں اب نظر کے سامنے
اس تپش میں تو جھلس کر رہ گئی ہے میری ذات
آگ بھڑکی تھی مرے اپنے ہی گھر کے سامنے
آگ کا دریا تو ہے سینے میں اب بھی موجزن
لاکھ بند باندھا کئے ہم چشمِ تر کے سامنے
برہمی تقدیر کی یا شورشِ حالات ہو
سانحے ہَیں ہر نفس خستہ جگر کے سامنے
درد کا درماں تو ہے بس ایک ، اپنا سر جُھکا
مالکِ کون و مکان و بحر و بر کے سامنے
چاہے تو پل میں ہے کر سکتا علاجِ جسم و روح
بات کیا مشکل ہے میرے چارہ گر کے سامنے
ہستئ موہوم پہ کوئی بھروسہ کیا کرے
ہست کا انجام ہے ہر دیدہ ور کے سامنے
سلسلہ تو ہے وہی لیکن ہے پھر بھی بے خبر
دُھند کی دیوار ہے روحِ بشر کے سامنے
کوئی چاہے یا نہ چاہے یہ سفر ہے ناگزیر
ہر کوئی مجبور ہے حکمِ سفر کے سامنے
ایک سوزِ بے بسی بھی اس غمِ پنہاں میں ہے
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دلِ انساں میں ہے
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

8۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چالیس شبانہ روز دُعاؤں کا ثمر

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ49۔57

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چالیس شبانہ روز دُعاؤں کا ثمر

شرابِ محبت پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا
نگاہوں سے پردے اٹھا ساقیا
سب احوال نظروں میں لا ساقیا
نگاہوں میں لا آج وہ واقعات
ہے وابستہ جن سے جہاں کی حیات
اٹھارہ کے اوپر چھیاسی تھے سال
کہ گویا ہؤا یوں شہہِ ذوالجلال
مبارک ہوتجھ کو اے فخر رُسل
کہ ملتا ہے تیری دعاؤں کا پھل
بہت ہی جو کی تو نے تھیں زاریاں
کہ تیری صداقت ہو سب پہ عیاں
کہ تیری جماعت یہ پُھولے پَھلے
زمانے میں حق کا ہی سکہّ چلے
سو تیری دعاؤں کو میں نے سُنا
تِرے اس سفر کو مُبارک کیا
سُن اے ابنِ مریم سخن دلپذیر
کہ بیٹا میں دُوں گا تجھے بے نظیر
نشاں ہے وہ فضل اور احسان کا
بہت مرتبہ ہے اُس انسان کا
مبارک ہو فتح و ظفر کی کلید
ہے تیرے لئے یہ خوشی کی نوید
وہ آئے گا مُردوں میں دم پھونکنے
نجات ان کو دلوائے گا موت سے
جو قبروں میں ہیں باہر آئیں گے وہ
وہ پھیلائے گا دینِ اسلام کو
مبارک ہو لڑکا یہ پاک و وجیہہ
جو ہو گا سراسر تری ہی شبیہہ
مبارک ہو تجھ کو غلامِ ذکی
جو ہوگا یقینا تری نسل ہی
شکوہ اور عظمت کا حامل ہے وہ
ہماری محبت کے قابل ہے وہ
وہ ہوگا بہت ہی ذہین و فہیم
وہ کلمۂ تمجید، دل کا حلیم
علوم اس میں ہیں ظاہری باطنی
وہ دنیا میں پھیلائے گا روشنی
وہ فرزندِ دلبند ہے ارجمند
خلائق میں ہوگا بہت دل پسند
مبارک کہ وہ ”نور آتا ہے نور
ہو جس سے جلالِ خدا کا ظہور
وہ عِطرِ رضا سے جو ممسوح ہے
وہ سارے زمانے کا ممدوح ہے
وہ ہوگا اسیروں کا بھی رستگار
وہ عجزِ مجسّم، وہ کوہِ وقار
زمانے میں شہرت وہ پا جائے گا
وہ آپ اپنی عظمت کو منوائے گا
وہ ہے حسن و احساں میں تیرا نظیر
کشادہ جبیں اور روشن ضمیر
نواسی میں آخر بفضل خدا
یہ موعود بچہ تولّد ہوا
لگا جلد بڑھنے وہ ماہِ مُبیں
جو سب پیشگوئیاں تھیں پوری ہوئیں
ہوئی جب مسیحِ خدا کی وفات
تو نظروں میں اندھیر تھی کائنات
عدُو کو شماتت کا موقع ملا
شریروں کا بھی غنچۂ دل کھلا
وہ سمجھے جماعت یہ مٹ جائیگی
نشاں بھی نہ اس کا نظر پائے گی
جماعت پہ بھی تھا یہ وقتِ گراں
ہر اک دل تھا زخمی نظر خونچکاں
تھا ہر آدمی بس اسی فکر میں
خدا جانے اب ہم رہیں نہ رہیں
تھی ہر سمت چھائی ہوئی تیرگی
نہ آتی نظر تھی کہیں روشنی
یکایک کِرن اک ہویدا ہوئی
چمک سی نگاہوں میں پیدا ہوئی
جو ظلمت کے بادل تھے چھٹنے لگے
نگاہوں سے پردے بھی ہٹنے لگے
مبدّل ہوئیں ظلمتیں نور میں
جِلا پھر ہوئی جلوۂ طور میں
اُٹھا عزم سے ایک کمسِن جواں
وہ ہمّت، شجاعت کا کوہ گِراں
جماعت پہ موقع تھا یہ جاں گسل
کہ گویا ہوا ابنِ فخر رُسل
قسم ہے مجھے اے مقدس وجود
نہ بیٹھوں گا میں بخدائے ودود
نہ جب تک یہ دنیا تجھے جان لے
نہ وہ تیری تعلیم پہچان لے
تھا انیس سو اور چودہ کا سَن
خلیفہ ہوا جب وہ فخر زمن
خلافت کی جب اُس نے پہنی قبا
تو سارا زمانہ مخالف ہوا
جو تھے دوست وہ بھی عدو بن گئے
سب اپنے پرائے مخالف ہوئے
کمال و محمد علی مستری
غرض اور اس طرح کے سازشی” ١؎
بڑھے اس کی عظمت کو للکارنے
بڑھے دوست بن کر اُسے مارنے”٢؎
اکیلا تھا وہ راہ پُر پیچ تھی
تھی راہوں پہ چھائی ہوئی تیرگی
کوئی بھی تو اس کا سہارا نہ تھا
کہیں درد کا اس کے چارہ نہ تھا
بجُز آستانِ شہہ ذُوالمنن
کہ جا کے جہاں کم ہو دل کی جلن
اسی آستانہ پہ وہ جھک گیا
وہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کے رویا کِیا
وہ سجدے میں گر گر کے روتا رہا
وہ اشکوں کے موتی پروتا رہا
میں مجبور ہوں تُو ہے بااختیار
نہیں مجھ میں طاقت اُٹھاؤں یہ بار
تو دل کو مرے ہمتیں بخش دے
کہ باطل شکن جرأتیں بخش دے
لگا رات دن کام کرنے وہ ماہ
کہ تھی اس کے دل میں محمدؐ کی چاہ
عدو کی بھی پرواہ نہ کی ذرا
اولوالعزم جرنیل تھا جم گیا
یہ لجنہ، یہ تحریک و وقفِ جدید
یہ اسکول و کالج قدیم و جدید
یہ خدام و اطفال، یہ ناصرات
اسی کا ہے مرہون ان کا ثبات
یہ ہیں اس کی ہی محنتوں کے ثمر
جو پودا لگایا ہوا بارور
تھا درد اس کے دل میں جو اسلام کا
معیّن کیا راستہ کام کا
جہاں مختلف دیں کی تصویر تھی
وہیں اس نے مسجد بھی تعمیر کی
جو مسلم کی حالت پہ کرتا نظر
تو کرتا تھا خوں اپنے قلب و جگر
اسیروں کا ناجی مسیحؑ کا پسر
اٹھا بہرِ آزادیئ کاشمر
محبت خدا سے، محمدؐ سے تھی
رہِ دیں میں ہی زندگی کٹ گئی
تھا ضُعف و نقاہت سے اٹھنا محال
نہ آرام کا پھر بھی آیا خیال
سدا خدمتِ دین کرتا رہا
عمل کی وہ تلقین کرتا رہا
تھا انیس سو اور پینسٹھ کا سال
ہوا جبکہ اس شیر دل کا وصال
گیا سب کو روتا ہوا چھوڑ کے
وہ دنیائے فانی سے منہ موڑ کے
نہ اب وہ یہاں لوٹ کر آئے گا
نہ اپنا حسیں چہرہ دکھلائے گا
دعا ہے رہے اپنا حامی خدا
ہیں راضی کہ جس میں ہو اُس کی رضا
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

https://www.facebook.com/urdu.goldenpoems/