215۔گھر سے نکلے تھے بے ارادہ بھی

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ 317۔318

215۔گھر سے نکلے تھے بے ارادہ بھی

گھر
سے نکلے تھے بے ارادہ بھی
بے
خبر بھی تھے لوگ سادہ بھی
تم
نے اوڑھا تھا جو لبادہ بھی
وہ
لبادہ تھا رہنِ بادہ بھی
یاد
تو ہو گا، ہم فقیروں سے
ایک
تم نے کِیا تھا وعدہ بھی
تم
نے تقسیم کر کے دیکھ لیا
جسم
کو اپنے آدھا آدھا بھی
ایک
ہی رنگ میں ہوئے رنگیں
شاہ
بانو بھی، شاہ زادہ بھی
ایک
تھیلی کے چٹّے بٹّے تھے
پوتے،
پڑپوتے اور دادا بھی
بات
دل کی زباں پہ آ نہ سکی
لاکھ
اس کا کیا ارادہ بھی
یوں
تو منزل بھی تھی قریب بہت
راستہ
تھا بہت کشادہ بھی
اس
کے نقشِ قدم پہ چل نکلے
ہم
اگرچہ تھے پا پیادہ بھی
ہم
نے ہنس کر اُٹھا لیا مضطرؔ
!
جس
قدر بوجھ اس نے لادا بھی
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

اپنا تبصرہ بھیجیں