181۔ ترے لب پہ بھول کر بھی مرا نام تک نہ آیا

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ271

181۔ ترے
لب پہ بھول کر بھی مرا نام تک نہ آیا

ترے
لب پہ بھول کر بھی مرا نام تک نہ آیا
یہ
کہاں کی دوستی ہے کہ سلام تک نہ آیا
زہے
منزلِ محبت، زہے رہنما ؐئے کامل
یہ
سفر تھا تیز اتنا کہ مقام تک نہ آیا
ترے
تشنگانِ غم کی یہی خوش نصیبیاں ہیں
کبھی
مل گئے سمندر، کبھی جام تک نہ آیا
یہی
ڈر ہے تھک نہ جائیں مری منتظر نگاہیں
مجھے
اس کا غم نہیں ہے کہ تُو بام تک نہ آیا
جو
بھٹک گئے تھے آئے سبھی لوٹ کر مسافر
کوئی
صبح تک نہ آیا، کوئی شام تک نہ آیا
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

اپنا تبصرہ بھیجیں