80۔ تم عہد کے حالات رقم کیوں نہیں کرتے

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ138

80۔ تم عہد کے حالات رقم کیوں نہیں  کرتے

تم عہد کے حالات رقم کیوں نہیں  کرتے
تصویر کے ٹکڑوں کو بہم کیوں نہیں  کرتے
چہروں کے کھنڈر بھی ہیں  بہت دید کے قابل
سیر ان کی بھی دو چار قدم کیوں نہیں  کرتے
تم کس لیے معیار کی سولی پہ چڑھے ہو
دانا ہو تو معیار کو کم کیوں نہیں  کرتے
کیوں چھوڑ نہیں  دیتے ہمیں حال پہ اپنے
اے اہلِ کرم! اتنا کرم کیوں نہیں  کرتے
کیوں اتنے خداؤں کی پر ستش میں لگے
ہو
سر ایک کی دہلیز پہ خم کیوں نہیں  کرتے
صحرائے تحیّر میں کھڑے سوچ رہے ہو
رَم خوردہ ہو تم لوگ تو رم کیوں نہیں  کرتے
میں بھی تو حسینؓ ابنِ علیؓ کا ہوں
ثنا خواں
سر میرا سرِ عام قلم کیوں نہیں  کرتے
دم توڑ نہ دے آپ کا بیمارِ محبت
عیسیٰ ہو تو بیمار پہ دم کیوں نہیں  کرتے
حیراں ہیں  صنم خانے بھی اس بات پہ مضطرؔ!
جو کہتے ہیں  وہ بات صنم کیوں نہیں  کرتے
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

اپنا تبصرہ بھیجیں