414۔ دلِ ناداں ابھی زندہ بہت ہے

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ608

414۔ دلِ
ناداں ابھی زندہ بہت ہے

دلِ
ناداں ابھی زندہ بہت ہے
اسے
امیّد آئندہ بہت ہے
بہت
وعدے کئے ہیں اس نے، لیکن
یہ
جیسا بھی ہے شرمندہ بہت ہے
خدا
محفوظ رکھے اس کے شر سے
یہ
مارِ آستیں زندہ بہت ہے
بہار
آئی ہوئی ہے آنسوؤں کی
شبِ
فرقت درخشندہ بہت ہے
نہیں
ہے زلزلوں کی اس کو پروا
فصیلِ
شہر پائندہ بہت ہے
اگر
میدان سے بھاگا تو اب کے
ابوسفیان
کو ہندہ بہت ہے
تری
تائید شامل ہو تو مالک
فقط
تیرا نمائندہ بہت ہے
نظر
آتا نہیں اندھوں کو مضطرؔ
اگرچہ
چاند تابندہ بہت ہے
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے