417۔ اجنبی آشنا نہ ہو جائے

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ611

417۔ اجنبی
آشنا نہ ہو جائے

اجنبی
آشنا نہ ہو جائے
پھر
کوئی حادثہ نہ ہو جائے
پھول
کا رنگ اڑ نہ جائے کہیں
اور
خوشبو رِہا نہ ہو جائے
مجھ
کو ڈر ہے کہ فرطِ لذّت سے
پیڑ
غم کا ہرا نہ ہو جائے
دیکھتی
آنکھوں برسرِ دربار
پھر
کوئی معجزہ نہ ہو جائے
شبِ
فرقت ہو تیری عمر دراز
کہیں
تو بھی جدا نہ ہو جائے
باخبر،
باملاحظہ، ہشیار
گم
کہیں نقشِ پا نہ ہو جائے
بے
یقینوں کو آ نہ جائے یقیں
درد
پھر لادوا نہ ہو جائے
دل
ہی اک یارِ غار ہے اپنا
کہیں
یہ بھی خفا نہ ہو جائے
اکثریت
کے زعم میں مضطرؔ
کہیں
بندہ خدا نہ ہو جائے
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے