402۔ جب بھی وہ عہد کا حسیں بولے

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ
587

 جب بھی وہ عہد کا حسیں بولے

جب بھی وہ عہد کا حسیں بولے
عرش بولے، کبھی زمیں بولے
جب وہ بولے تو ساتھ ساتھ اس کے
ذرّہ ذرّہ بصَد یقیں بولے
چاند سورج گواہی دیں اس کی
اُس کا منکر نہیں نہیں بولے
شور برپا ہے صحنِ مقتل میں
برسرِدار اک حسیں بولے
اشک ہی تھے جو چپ رہے، یعنی
اشک ہی تھے جو بہتریں بولے
کب کرے اپنے جرم کو تسلیم
کس لئے مارِ آستیں بولے
یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے میاں
قتل ہو کر بھی ہم نہیں بولے
قتلِ ناحق پہ کس لئے مضطرؔ
چپ رہے آپ، کیوں نہیں بولے
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے