242۔ پتھر اُٹھائیے ، کوئی دشنام دیجیے

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ360

242۔ پتھر اُٹھائیے ، کوئی دشنام دیجیے

پتھر اُٹھائیے ، کوئی دشنام دیجیے
مجرم ہوں جرمِ عشق کا، انعام دیجیے
یہ کیا کہ چھپ کے عشق کا الزام دیجیے
دینی ہے جو سزا بھی سرِ عام دیجیے
اتنی بھی احتیاط نہ کیجے سرِ صلیب
نعرہ لگایئے، کوئی پیغام دیجیے
زہرِ غمِ حیات بھی پینے کی چیز ہے
سقراط ہوں تو زندگی کا جام دیجیے
مَیں بھی لکھوں فراق کے قصّے کتاب میں
بے کار پھر رہا ہوں، کوئی کام دیجیے
پہلے دل و دماغ کو پلکوں سے پونچھیے
پھر آنسوؤں کا جامۂ اِحرام دیجیے
کر دیجیے گا، قتل پہ مضطرؔ کے، دستخط
کوئی تو کام آپ بھی انجام دیجیے
جون، ١٩٨٨
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

اپنا تبصرہ بھیجیں