بُخارِ دِل

بخار
دل صفحہ01

بُخارِ دِل

احمدی احباب کی تعلیم و تربیت کے لئے
بُخارِ دِل
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب
یکے از مطبوعات شعبہ اشاعت لجنہ اماءِ
اللہ ضلع کراچی بسلسلہ صد سالہ جشن تشکر
                                                                                                                       

اظہارِ تشکّر

بخار
دل صفحہ02

اظہارِ تشکّر

محترم مرزا محمد انور صاحب سان فرانسسکو
۔ امریکہ نے اپنی
والدہ محترمہ خورشید بیگم صاحبہ
اہلیہ محترم مرزا محمد اسمٰعیل صاحب کی طرف سے اس کتاب کی اشاعت میں مالی معاونت کی
ہے۔
ہم

پیش لفظ

بخار
دل صفحہ03

پیش لفظ

اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ لجنہ
کراچی صد سالہ جشن تشکر کی خوشی میں کتب شائع کرنے کے منصوبے پر ثابت قدمی سے عمل کر
رہی ہے ‘بخارِ دِل’ جو حضرت ڈاکٹر

عرضِ حال

بخار
دل صفحہ04۔06

عرضِ حال

حضرت سلطان القلم کے سایۂ عاطفت میں’
حضرت سیّدہ نصرت جہاں کی آنکھوں میں’ ذوقِ لطیف کے ہمالوں پر علم و عرفان کی نور بار
فضاؤں میں پرورش پانے والے خانوادۂ میر دردؔ کی شعری

بُخارِ دِل کا نام

بخار
دل صفحہ07

بُخارِ دِل کا نام

بُخارِ دِل رکھا ہے نام اِس کا
کہ آتِشدانِ دِل کا یہ دُھواں ہے
کسی کے عشق نے جب پھُونک ڈالا
تو نکلی مُنہ سے یہ آہ و فُغاں ہے
لگاتی آگ ہے

انتساب

بخار
دل صفحہ08

انتساب

اے کہ تُو ہے مُنعِمِ آلائے من
مَیں تِرا بندہ ہوں اے آقائے مَن
لُطف کُن بر من طُفیلِ آنکہ بُود
سیّدِ مَن، شیخِ مَن، مرزائے مَن
ہوں سَقِیمُ الحال اور مَعذُور، گو
اے طبیبِ جُملہ

تعارف

بخار
دل صفحہ09

تعارف

شعر کی تعریف اس سے زیادہ نہیں کہ وہ
باوزن ہو۔ اس کے الفاظ عمدہ اور مضمون لطیف ہو۔ میرے بزرگوں کو چونکہ شاعری سے مناسبت
تھی اس لئے مجھ میں بھی کچھ حصہ اس ذوق

تمہید

بخار
دل صفحہ10۔12

تمہید

استاذی المحترم حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل
۔۔۔۔۔۔۔نے 1903ء سے شعر کہنے شروع کیے اور آخر وقت تک کچھ نہ کچھ کہتے رہے۔ 44 برس
کے اس طویل عرصہ میں آپ نے بہت تھوڑی نظمیں کہیں مگر جو

نظموں کی ترتیب

بخار
دل صفحہ13۔18

 نظموں کی ترتیب

نمبر
شمار     عنوان    صفحہ
1    جو
راہ تجھے پسند ہے اُس پر چلا مجھے    19
2    یا
رَبّ کسی معشوق سے عاشق نہ جدا ہو    20
3    آئے
گی مرے بعد تمہیں میری

1۔ جوراہ تجھے پسندہے اس پرچلامجھے

بخار
دل صفحہ19

1۔ جوراہ
تجھے پسندہے اس پرچلامجھے

غالباًسب
سے پہلی نظم
کیا فائدہ علاج کا بعد از فنا مجھے
اے کاش! دردِ دِل کی ملے اب دوامجھے
اہلِ جَفا کے ظُلم سے اتنا ہوا ہوں
تنگ
دوزخ کا