119۔ جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئی

یہ
زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں
صفحہ37۔38

119۔ جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئی

جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئی
بدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئی
کوئی عزیز نہیں ماسوائے ذات ہمیں
اگر ہوا ہے تو یوں جیسے زندگانی ہوئی
نہ ہو گی خشک کہ شاید وہ لوٹ آئے پھر
یہ کِشت گزرے ہوئے اَبر کی نشانی ہوئی
تم اپنے رنگ نہاؤمیں اپنی موج اڑوں
وہ بات بھول بھی جاؤجو آنی جانی ہوئی
میں اس کو  بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیا
تو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی
ہوئی
کہاں تک اور بھلا جاں کا  ہم زیاں 
کرتے
بچھڑ گیا ہے تو یہ اس کی مہربانی ہوئی
1969ء
عبید اللہ علیم ؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں