143۔ مرثیہ

یہ
زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں
صفحہ83

143۔ مرثیہ

مرثیہ
اداس یادوں کی مضمحل رات بیت بھی جا
کہ میری آنکھوں میں اب لہو ہے نہ خواب
کوئی
میں سب دیے طاقِ آرزو کے بجھا چکا ہوں
تُو ہی بتا اب
کہ مرگ ِمہتاب و خونِ انجم پہ نظر کیا
دوں
نہ میرا ماضی نہ میرا فردا
بکھر گئی تھی جو زلف کب کی سنور چکی
ہے
اور آنے والی سحر بھی آ کر گزر چکی
ہے
اداس یادوں کی مضمحل رات بیت بھی جا!
1968ء
عبید اللہ علیم ؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں