22۔ زمیں کا زخم بھی اب بھر رہا ہے

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ34

22۔ زمیں کا زخم بھی اب بھر رہا ہے

زمیں کا زخم بھی اب بھر رہا ہے
نہ دلّی ہے، نہ امرتسر رہا ہے
رہا ہے تو ہمارے قتل کے بعد
ہمارا ذکر ہی اکثر رہا ہے
یہ کمرہ جس سے خوشبو آ رہی ہے
ہمارے یار کا دفتر رہا ہے
صداقت سامنے عریاں کھڑی ہے
وہ آئینے سے جھگڑا کر رہا ہے
پگھلنے کی اسے فرصت نہیں ہے
یہ پتھر عمر بھر پتھر رہا ہے
اسے چالاکیاں آتی نہیں ہیں
وہ اکثر شہر سے باہر رہا ہے
وہؐ پیاسوں کی اذیّت کا ہے محرم
وہ صحراؤں سے ہم بستر رہا ہے
اسے معلوم ہے ردّی کا بھاؤ
وہ اخباروں کا سوداگر رہا ہے
کسی کو اب شکایت ہے نہ شکوہ
ہم اپنے گھر، وہ اپنے گھر رہا ہے
یہ آنسو جس کو آنسو کہہ رہے ہو
یہی تو آنکھ کا زیور رہا ہے
محبت ہو گئی ہے تجھ سے مضطرؔ!
تو کس محبوب کا نوکر رہا ہے
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

https://www.facebook.com/urdu.goldenpoems/

اپنا تبصرہ بھیجیں