373۔ سنائی دے ہے یوں پائل کی آواز

اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ543

373۔ سنائی
دے ہے یوں پائل کی آواز

سنائی
دے ہے یوں پائل کی آواز
کہ
جیسے ہجر کی شب دل کی آواز
عدو
آزاد ہے، مانے نہ مانے
مری
آواز ہے محفل کی آواز
صداقت
کے سمُندر منتظر ہیں
کبھی
تو آئے گی ساحل کی آواز
یہ
کَہ کر بَہ گیا خونِ شہیداں
فقط
آواز ہے قاتل کی آواز
مَیں
ضامن ہوں طلوعِ صبحِ نو کا
مری
آواز مستقبِل کی آواز
مہک
اُٹھّیں گے پھر آموں کے جنگل
سنائی
دے گی پھر کوئل کی آواز
کدھر
جاؤں، مَیں خود حیراں ہوں مضطرؔ
!
اِدھر
دل کی، اُدھر محفل کی آواز
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی

اپنا تبصرہ بھیجیں