9۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعودؓ کی یاد میں

ہے
دراز دستِ دعا مرا صفحہ58۔62

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعودؓ
کی یاد میں

صُبحیں افسردہ ہیں شامیں ویران ہیں
گلیاں خاموش ہیں کوچے سنسان ہیں
دیکھتے دیکھتے رونقیں کیا ہوئیں
آج ربوہ کے سب لوگ حیران ہیں
ہر شجر، ہر حجر آج ہے سرنگوں
کتنی افسردگی کوہساروں پہ ہے
آج ہر دل ہے شق، آنکھ ہے خونچکاں
کس قدر بے کسی سوگواروں پہ ہے
چاندنی ماند ہے، چاند بھی ماند ہے
وہ چمک بھی ستاروں میں باقی نہیں
پھول توڑا ہے گلچیں نے وہ باغ سے
دلکشی اب بہاروں میں باقی نہیں
چل دیا آج وہ فخر عصرِ رواں
جس کی ہستی پہ اِس دَور کو ناز تھا
وہ کہ اپنے پرائے کا غمخوار تھا
وہ کہ اپنے پرائے کا دمساز تھا
وہ کہ مُردہ دلوں میں جو دم پھونک کر
زندگی کے ترانے سناتا رہا!
جو سدا صبر کا درس دیتا رہا
جو مصائب میں بھی مسکراتا رہا
شفقتیں دُشمنوں پہ بھی کرتا رہا
وہ محبت کا اک بحرِ زخّار تھا
ڈانٹتا بھی رہا تربیت کے لئے
اُس کے غصّے میں بھی لیک اک پیار تھا
وہ مرقع تھا عِلم اور عِرفان کا!
اِک فراست، ذہانت کا پیکر تھا وہ
معرفت کے خزانے تھے حاصل اُسے
بحرِ روحانیت کا شناور تھا وہ
اُس نے اپنی ذرا بھی تو پرواہ نہ کی
اُس کے دل میں تو بس اک یہی تھی لگن
ہو خزاں کا تسلّط نہ گلزار پر
لہلہاتا رہے دینِ حق کا چمن
وہ کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کے رویا کِیا
کہ جماعت یہ دنیا میں پُھولے پھلے
رحمتِ حق رہے اِس پہ سایہ فگن
چشمہء فیضِ حق اِس میں جاری رہے
اہلِ دنیا کی حالت پہ کر کے نظر
وہ کہ اشکوں کے موتی پروتا رہا
وہ کہ سجدے میں گر کے بِلکتا رہا
اور جہاں چین کی نیند سوتا رہا
شق ہو پتھر کا سینہ بھی سُن کر جنہیں
صبر سے ایسی باتیں وہ ُسنتا رہا
خار دامن سے اس کے اُلجھتے رہے
وہ ہمارے لئے پُھول چُنتا رہا
اس کو اپنے پرائے ستاتے رہے
پر ہمیشہ وہ حق بات کہتا رہا
آنچ آنے نہ دی اس نے اسلام پر
اپنے سینے پہ ہر وار سہتا رہا
اپنے لُطف و کرم اور اخلاق سے
وہ زمانے کو تسخیر کرتا رہا
اپنے خونِ جگر سے وہ اسلام کا
اک نیا دَور تحریر کرتا رہا
دینِ احمدؐ کی اُس نے بقا کے لئے
مال اپنا دیا، اپنی جاں پیش کی
اپنی اولاد کو وقف اُس نے کیا
اپنے افعال، اپنی زباں پیش کی
تشنگی کی یہ حالت رہی، عمر بھر
وہ شرابِ محبت ہی پیتا رہا
اُس کی ہر سانس تھی بس خدا کے لئے
وہ محمدؐ کی خاطر ہی جیتا رہا
خدمتیں دین کی بھی وہ کرتا رہا
ہجر کی تلخیاں بھی وہ سہتا رہا
لے کے آخر میں نذرانۂ جان و دل
سوئے کوئے نگاراں روانہ ہؤا
اُس کے دم سے اُجالا تھا چاروں طرف
وہ گیا تو یہاں تیرگی چھا گئی
چاند روشن ہے اب بھی اُفق پہ مگر
”میرے سورج کو کِس کی نظر کھا گئی”
١؎
١؎    یہ مصرعہ احمد ندیم قاسمیؔ صاحب کا ہے۔
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں