14۔ گل ستاں میں وہ رشکِ بہار آگیا

ہے
دراز دستِ دعا مرا صفحہ75۔76

14۔
گل ستاں میں وہ رشکِ بہار آگیا

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے دورہ
مغرب سے واپسی کے موقع پر
قطعَات
زندگی کے چمن پہ نکھار آ گیا
آج گلشن میں وہ گلعذار آ گیا
پھول مہکے، چمن مسکرانے لگا
گل ستاں میں وہ رشکِ بہار آ گیا
دید اُس کی ہی آنکھوں کا مقصود ہے
وہ کہ موعود ہے ابنِ موعود ہے
جا کے یورپ میں پیغام حق کا دیا
آج واں کفر کی راہ مسدود ہے
وہ نگارِ حسیں ہے یہاں جلوہ گر
دیکھ کے جس کو ہر شخص خورسند ہے
نافلہ ہے مسیح کا وہ عالی گہر
اَور فضلِ عمر کا وہ فرزند ہے
شکرِ باری تعالیٰ کہ اُس نے ہمیں
قدرتِ ثانیہ کی عطا بخش دی
دے کے دَورِ خلافت کی نعمت ہمیں
اپنی رحمت کی رنگیں رِدا بخش دی
ہے دعائے دلِ درد منداں کہ یہ
دیر تک اپنے جلوے دکھاتا رہے
اس کی خوشبو سے گلشن مہکتا رہے
باغِ احمد یونہی لہلہاتا رہے
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں