104۔ گھر

ہے
دراز دستِ دعا مرا صفحہ307۔310

104۔ گھر

کچھ آج بزمِ دوستاں میں ایک گھر کی
بات ہو
چمن کے رنگ و بُو، حسین بام و دَر کی
بات ہو
خلوصِ دل کی بات، خُوبیئ نظر کی بات
ہو
وہ قصر ہو، محل ہو یا بڑا سا اک مکان
ہو
ہے بات سب کی ایک ہی
یہ سب تو خشتِ مرمریں کا بس حسین ڈھیر
ہیں
ہاں گھر کی بات اَور ہے
گو چھوٹا سا مکان ہو
پہ موسموں کے گرم و سرد سے مجھے بچا
سکے
وہ میرا سائبان ہو
مری نظر میں گھر ہے وہ
میرے عزیز دوستو
جہاں محبتیں بھی ہوں
جہاں رفاقتیں بھی ہوں
جہاں خلوصِ دل بھی ہو
جہاں صداقتیں بھی ہوں
جہاں ہو احترام بھی
جہاں عقیدتیں بھی ہوں
جہاں ہو کچھ لحاظ بھی
جہاں مروّتیں بھی ہوں
جہاں نوازشیں بھی ہوں
جہاں عنائتیں بھی ہوں
جہاں ہو ذکرِ یار بھی
جہاں عبادتیں بھی ہوں
کسی حسین، دلنواز کی حکائتیں بھی ہوں
جہاں نہ ہوں کدورتیں
جہاں نہ ہوں عداوتیں
دل و نگاہ و فکر کی
جہاں نہ ہوں کثافتیں
یہ ایسی اک جگہ ہے کہ جسے مَیں اپنا
کہہ سکوں
جہاں میں سُکھ سے جی سکوںجہاں سکوں
سے رَہ سکوں
جہاں کے رہنے والے ایک دوسرے پہ جان
دیں
بَھرم محبتوں کا اور عزتوں کا مَان
دیں
وہ جن کے سینے چاہت و خلوص کا جہان
ہوں
جبیں پہ جن کی ثبت پیار کے حسیں نشان
ہوں
جہاں نہ بد لحاظ ہو کوئی نہ بد زبان
ہو
جہاں نہ بدسرشت ہو کوئی نہ بدگمان ہو
جہاں بڑوں کی شفقتوں کا میرے سر پہ
ہاتھ ہو
تو دوستوں کی چاہتوں کا بھی حسین ساتھ
ہو
نہ جس جگہ دکھائی دیں اَنا کی کج ادائیاں
گو خامیاں ہزار ہوں پہ ہوں نہ جگ ہنسائیاں
جہاں بسر ہو زندگی محبتوں کی چھاؤں
میں
ہو باس پیار کی جہاں رچی ہوئی فضاؤں
میں
دمک رہے ہوں بام و دَر بھی روشنی سے
پیار کی
ہو جس چمن کی ہر کلی پِیامبر بہار کی
ہوں جسم گو تھکے ہوئے پہ رُوح نہ ملول
ہو
کسی کے دل میں کھوٹ نہ کسی کے مَن پہ
دھول ہو
مِری یہ آرزو ہے جو بھی میرے گھر کا
فرد ہو
نہ اس کا لہجہ گرم ہو نہ اس کا سینہ
سَرد ہو
مِرے عزیز دوستو!
یہ گھر تو وہ مقام ہے
جہاں سکون مِل سکے
جہاں قرار تو ملے
جہاں محبتیں ملیں
جہاں سے پیار تو ملے
جہاں تحفظ و خلوص و اختیار تو ملے
جہاں دلوں کو چین
ذہن کو نکھار تو ملے
جہاں سے احترامِ ذات کا وقار تو ملے
کسی کی ذاتِ معتبر کا اعتبار تو ملے
یہ افتخار تو ملے
یہی تو وہ مقام ہے
کہ جو مجھے عزیز ہے
یہ گھر عجیب چیز ہے
مجھے بہت عزیز ہے
مجھے بہت عزیز ہے
کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م
صاحبہ سملہا اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں