83۔ حضرت مولوی بُرھان الدین جہلمی

بخار
دل صفحہ207

83۔
حضرت مولوی بُرھان الدین جہلمی

ایک تھے جہلم میں رہتے مولوی برہان
دین
جو حواری ابتدائی حضرت احمدؑ کے تھے1؎
ایک دن جب سیر سے حضرت ہوئے واپس تو
وہ
احمدیہ چوک میں یوں آپ سے کہنے لگے
اپنی حالت ہے عجب کمزور اے
میرے حضور
احمدی بن کر بھی ہم ”جُھڈو2؎ کے جُھڈو”
ہی رہے
کہہ کہ پنجابی میں یہ الفاظ پھر وہ
رو دیے
حضرت مہدی تسلّی اُن کی گو کرتے رہے
تھے اگرچہ سلسلہ کے سابِقُونُ
لْاَوَّلُونْ
پر ہمیشہ وہ ترقی کے رہے پیچھے پڑے
وحئ حق نے اُن کو ”شہتیرِ جماعت3؎”
تھا کہا
پھر بھی اپنے حال پر نادِم تھے اور
حیران تھے
جائے عبرت ہے کہ مجھ سا بے عمل اور
نابکار
جو کہے کچھ اور کرے کچھ ۔ مطمئن پھر
بھی رہے
اُن کو تھی ہر دم تڑپ، قُربِ الٰہی
کی لگی
اور ہم بسترمیں لیٹے کروٹیں ہیں لے
رہے
آگ تھی دِل میں، نہ تھااُن کوکہیں آرام
و چین
جان جائے حق کی راہ میں بس یہی تھے
چاہتے
اے خدا، بَر تُربَتِ اُو ابرِ
رحمت ہا ببار
آنکہ بود از جان و دل قربان رُوئے دِلبرے
مرحبا! کیسے تھے احمدؑ کے یہ اصحابِ
کُبار
احمدیت کےلئے سب کچھ ہی قُرباں کر گئے
جَنّتُ الفِردوس میں اعلیٰ مدارج ہوں
نصیب
حق تعالیٰ اُن سے خوش ہو، مَغفِرت اُن
کی کرے
1؎ مولوی صاحب 1886ء سے بھی پہلے
کے تعلق رکھنے والوں میں تھے۔ (تذکرہ صفحہ137)        
2؎ قریباً اصل الفاظ        
 3؎ دوشہتیروں کے ٹوٹنے کا الہام ان کے اور حضرت مولوی
عبدالکریم صاحب کے لئے مشہورتھا۔
الفضل 17اکتوبر1943ء

اپنا تبصرہ بھیجیں