11۔ پھول تم پر فرشتے نچھاور کریں

کلام
طاہر ایڈیشن 2004صفحہ28۔30

11۔ پھول تم پر فرشتے نچھاور کریں

آئے وہ دن کہ ہم جن کی چاہت میں گنتے
تھے دن اَپنی تسکینِ جاں کے لئے
پھر وہ چہرے ہویدا ہوئے جن کی یادیں
قیامت تھیں قلبِ تپاں کے لئے
جن کے اخلاص اور پیار کی ہر اَدا ،
بے غرض ، بے ریا ، دل نشیں ، دل رُبا
بے صدا جن کی آنکھوں کا کرب و بلا ،
کربلا ہے دل ِعاشقاں کے لئے
پیار کے پھول دل میں سجائے ہوئے ، نورِ
ایماں کی شمعیں اٹھائے ہوئے
قافلے دُور دیسوں سے آئے ہوئے ، غمزدہ
اک بدیس آشیاں کے لئے
دیر کے بعد اے دُور کی راہ سے آنے والو
! تمہارے قدم کیوں نہ لیں
میری ترسی نگاہیں کہ تھیں منتظر ، اِک
زمانے سے اِس کارواں کے لئے
پھول تم پر فرشتے نچھاور کریں ، اور
کشادہ ترقی کی راہیں کریں
آرزوئیں مری جو دُعائیں کریں ، رنگ
لائیں مرے میہماں کے لئے
میرے آنسو تمہیں دیں رَمِ زندگی ، دور
تم سے کریں ہر غمِ زندگی
میہماں کو ملے جو دمِ زندگی ، وہی اَمرت
بنے میزباں کے لئے
نور کی شاہراہوں پہ آگے بڑھو ، سال
کے فاصلے لمحوں میں طے کرو
خوں بڑھے میرا تم جو ترقی کرو ، قرۃ
العین ہو سارباں کے لئے
تم چلے آئے میں نے جو آواز دی ، تم
کو مولیٰ نے توفیق پرواز دی
پر کریں ، پر شکستہ وہ کیا جو پڑے رہ
گئے چشمک دشمناں کے لئے
میری ایسی بھی ہے ایک رُودادِ غم ،
دل کے پردے پہ ہے خون سے جو رقم
دل میں وہ بھی ہے اِک گوشہ محترم ،
وقف ہے جو غمِ دوستاں کے لئے
یاد آئی جب ان کی گھٹا کی طرح ، ذکر
ان کا چلا نم ہوا کی طرح
بجلیاں دل پہ کڑکیں بلا کی طرح ، رُت
بنی خوب آہ و فغاں کے لئے
پھر اُفق تا اُفق ایک قوس ِقزح ، اُن
کے پیکر کا آئینہ بن کر سجی
اک حسیں یاد لے جیسے انگڑائیاں عالم
ِخواب میں خُفتگاں کے لئے
ہر تصور سے تصویر اُبھرنے لگی ، نام
بن کر زباں پر اُترنے لگی
ذکر اِتنا حسیں تھا کہ ہر لفظ نے فرطِ
الفت سے بوسے زباں کے لئے
اُن کی چاہت میرا مدعا بن گیا، میرا
پیار اُن کی خاطر دُعا بن گیا
بالیقیں اُن کا ساتھی خدا بن گیا ،
وہ بنائے گئے آسماں کے لئے
حبس کیسا ہے میرے وطن میں جہاں ، پا
بہ زنجیر ہیں ساری آزادیاں
ہے فقط ایک رستہ جو آزاد ہے ، یورشِ
سیل ِاشکِ رواں کے لئے
ایسے طائر بھی ہیں جو کہ خود اپنے ہی
آشیانے کے تنکوں میں محصور ہیں
اُن کی بگڑی بنا میرے مشکل کشا ، چارہ
کر کچھ غم بیکساں کے لئے
بن کے تسکیں خود اُن کے پہلو میں آ
، لاڈ کر ، دے اُنھیں لوریاں ، دل بڑھا
دُور کر بَد بَلا یا بتا کتنے دن اور
ہیں صبر کے امتحاں کے لئے؟
جلسہ سالانہ یو کے ١٩٨٧ء

اپنا تبصرہ بھیجیں