41۔ دوڑے جاتے ہیں بامید تمنا سوئے باب

کلام
محمود صفحہ78۔79

41۔ دوڑے جاتے ہیں بامید تمنا سوئے باب

دوڑے جاتے ہیں بامید تمنا سوئے باب
شاید آجائے نظر روئے دل آرا بے نقاب
غافلو کیوں ہورہے ہوعاشق چنگ در باب
آسماں پر کھل رہے ہیں آج سب عرفاں
کے باب
مست ہو کیوں اس قدر اغیار کے اقوال
پر
اس شہِ خوباں کی تم کیوں چھوڑ بیٹھے
ہو کتاب
کیا ہوا کیوں عقل پر ان سب کے پتھر
پڑگئے
چھوڑ کر دیں عاشق دنیا ہوئے ہیں شیخ
و شباب
اپنے پیچھے چھوڑے جاتے ہیں یہ اک حصن
حصیں
بھاگے جاتے ہیں یہ احمق کیوں بھلا سوئے
حُباب
امر بالمعروف کا بیڑا اٹھاتے ہیں جو
لوگ
ان کو دینا چاہتے ہیں ہر طرح کا یہ
عذاب
پر جو مولیٰ کی رضا کے واسطے کرتے ہیں
کام
اور ہی ہوتی ہے ان کی عز و شان و آب
و تاب
وہ شجر ہیں سنگباروں کو بھی جو دیتے
ہیں  پھل
ساری دنیا سے نرالا اُن کا ہوتا ہے
جواب
لوگ ان کے لاکھ دشمن ہوں وہ سب کے دوست
ہیں
خاک کے بدلے میں ہیں وہ پھینکتے مشک
و گلاب
یا الٰہی آپ ہی اب میری نصرت کیجیئے
کام ہیں لاکھوں مگر ہے زندگی مثلِ حباب
کیا بتاؤں جس قدر کمزوریوں میں ہوں
پھنسا
سب جہاں بیزار ہوجائے جو ہُوں مَیں
بے نقاب
میں ہوں خالی ہاتھ مجھ کو یونہی جانے
دیجئے
شاہ ہو کر آپ کیا لیں گے فقیروں سے
حساب
تشنگی بڑھتی گئی جتنا کیا دنیا سے پیار
پانی سمجھے تھے جسے وہ تھا حقیقت میں
سراب
میری خواہش ہے کہ دیکھوں اس مقام پاک
کو
جس جگہ نازل ہوئی مولیٰ تری امّ الکتاب
ابن ابراہیم ؑ آئے تھے جہاں با تشنہ
لب
کردیا خشکی کو تُو نے ان کی خاطر آب
آب
میرے والد کو بھی ابراہیم ؑ ہے تُو
نے کہا
جس کوجو چاہے بنائے تیری ہے عالی جناب
ابن ابراہیم ؑ بھی ہوں اور تشنہ لب
بھی ہوں
اس لیے جاتا ہوں میں مکہ کو باُمّید
آب
اک رخ روشن سدا رہتا ہے آنکھوں کے
تلے
ہیں نظر آتے مجھے تاریک ماہ و آفتاب
اس قدر بھی بے رخی اچھی نہیں عشاق سے
ہاں کبھی تو اپنا چہرہ کیجیئے گا بے
نقاب
چشمۂ انوار میرے دل میں جاری کیجیئے
پھر دکھا دیجے مجھے عنوانِ روئے آفتاب
رسالہ تشحیذالاذہان ماہ فروری  1913ء

اپنا تبصرہ بھیجیں