100۔ نہیں کوئی بھی تو مناسبت رہ شیخ وطرزِ ایاز میں

کلام
محمود صفحہ161

100۔ نہیں کوئی بھی تو مناسبت رہ شیخ وطرزِ
ایاز میں

نہیں کوئی بھی تو مناسبت رہ شیخ وطرزِ
ایاز میں
اسے ایک آہ میں مل گیا نہ ملا جو اِس
کو نماز میں
جو ادب کے حسن کی بجلیاں ہوں چمک رہی
کفِ ناز میں
تونگاہِ  حسن کو کچھ نہ پھر نظر آئے روئے نیاز میں
تجھے اس جہان کے آئنہ میں جمال ِ یار
کی جستجو
مجھے سو جہان دکھائی دیتا ہے چشمِ آئنہ
ساز میں
نظر آرہا ہے وہ جلوہ حسن ازل کا شمعِ
حجاز میں
کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قیس
عشقِ مجاز میں
مرا عشق دامنِ یار سے ہے کبھی کا جا
کے لپٹ رہا
تری عقل ہے کہ بھٹک رہی ہے ابھی نشیب
و فراز میں
ترے جام کو مرے خون سے ہی ملا ہے رنگ
یہ دلفریب
ہے یہ اضطراب یہ زیروبم مرے سوز سے
ترے ساز سے
اخبار الفضل جلد 28 ۔ 3جنوری 1940ء

اپنا تبصرہ بھیجیں