106۔ مری رات دن بس یہی اک صدا ہے

کلام
محمود صفحہ168۔169

106۔ مری رات دن بس یہی اک صدا ہے

مری رات دن بس یہی اک صدا ہے
کہ اس عالمِ کون کا اک خدا ہے
اسی نے ہے پیدا کیا اس جہاں کو
ستاروں کو سورج کو اور آسماں کو
وہ ہے ایک اس کا نہیں کوئی ہمسر
وہ مالک ہے سب کا وہ حاکم ہے سب پر
نہ ہے باپ اس کا نہ ہے کوئی بیٹا
ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا
نہیں اس کو حاجت کوئی بیویوں کی
ضروت نہیں اس کو کچھ ساتھیوں کی
ہر اک چیز پر اس کو قدرت ہے حاصل
ہر اک کام کی اس کو طاقت ہے حاصل
پہاڑوں کو اس نے ہی اونچا کیا ہے
سمند رکواس نے ہی پانی دیا ہے
یہ دریا جوچاروں طرف بہہ رہے ہیں
اسی نے تو قدرت سے پیدا کیے ہیں
سمندرکی مچھلی ہوا کے پرندے
گھریلوچرندے بنوں کے درندے
سبھی کو وہی رزق پہنچا رہا ہے
ہراک اپنےمطلب کی شے کھا رہا ہے
ہر ایک شے کوروزی وہ دیتا ہے ہردم
خزانے کبھی اس کے ہوتے نہیں کم
وہ زندہ ہے اور زندگی بخشتا ہے
وہ قائم ہے ہر ایک کا آسرا ہے
کوئی شے نظر سے نہیں اس کے مخفی
بڑی سے بڑی ہو کہ چھوٹی سے چھوٹی
دلوں کی چھپی بات بھی جانتا ہے
بدوں اور نیکوں کو پہچانتا ہے
وہ دیتا ہے بندوں کو اپنے ہدایت
دکھاتا ہے ہاتھوں پہ ان کے کرامت
ہے فریاد مظلوم کی سننے والا
صداقت کا کرتا ہے وہ بول بالا
گناہوں کو بخشش سے ہے ڈھانپ دیتا
غریبوں کو رحمت سے ہے تھام لیتا
ہی رات دن اب تو میری صدا ہے
یہ میرا خدا ہے یہ میرا خدا ہے
اخبار الفضل جلد 29 ۔ یکم جنوری 1941ء

اپنا تبصرہ بھیجیں