143۔ آآکہ تری راہ میں ہم آنکھیں بچھائیں

کلام
محمود صفحہ207

143۔ آآکہ تری راہ میں ہم آنکھیں بچھائیں

آآکہ تری راہ میں ہم آنکھیں
بچھائیں
آآ کہ تجھے سینہ سے ہم اپنے لگائیں
تُوآئے تو ہم تجھ کو سر آنکھوں پہ
بٹھائیں
جاں نذر کریں تجھ کو تجھے دل میں
بسائیں
آپ آکے محمدؐکی عمارت کو بنائیں
ہم کفر کے آثار کو دنیا سے مٹائیں
ہیں مغرب و مشرق کے تو معشوق
ہزاروں
بھائی ہیں مگر آپ کی ہی مجھ کو
ادائیں
رحمت کی طرف اپنی نگہ کیجئے آقا
جانے بھی دیں کیا چیز ہیں یہ میری
خطائیں
میں جانتا ہوں آپ کے اندازِ تلطف
مانوں گا نہ جب تک کہ مری مان نہ
جائیں
ہے چیز تو چھوٹی سی مگرکام کی ہے
چیز
دل کو بھی مرے اپنی اداؤں سے لبھائیں
دے ہم کو یہ توفیق کہ ہم جان لڑا
کر
اسلام کے سرپر سے کر یں دوربلائیں
ربوہ کو ترا مرکز توحید بنا کر
اک نعرۂ تکبیر فلک بوس لگائیں
پھر ناف میں دنیا کی ترا گاڑ دیں
نیزہ
پھر پرچم اسلام کو عالم میں اڑائیں
جس شان سے آپ آئے تھے مکہ میں مری
جاں
اک بار اسی شان سے ربوہ میں بھی
آئیں
ربوہ رہے کعبہ کی بڑائی کا دعاگو
کعبہ کی پہنچتی رہیں ربوہ کو
دعائیں
اخبار الفضل جلد 4 ۔ 19جنوری 1950ء۔ لاہور پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں